True or Lie

True or Lie Story of History

پیرو کے صحراؤں میں واقع نازکا لائنز دنیا کی سب سے پراسرار اور حیرت انگیز آثار قدیمہ میں سے ایک ہیں۔ یہ عظیم الشان نقوش، ...
16/03/2026

پیرو کے صحراؤں میں واقع نازکا لائنز دنیا کی سب سے پراسرار اور حیرت انگیز آثار قدیمہ میں سے ایک ہیں۔ یہ عظیم الشان نقوش، جنہیں زمین پر کھود کر بنایا گیا، صدیوں پرانے ہیں اور ان کی اصل مقصد آج بھی سائنسدانوں، آثار قدیمہ کے ماہرین اور سیاحوں کے لیے ایک معمہ ہے۔

نازکا لائنز نازکا صحرا کے خشک اور وسیع میدانوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جو تقریبا 200 مربع میل رقبے پر محیط ہیں۔ یہ نقشے مختلف اشکال میں بنائے گئے ہیں جن میں جانور، پودے، جیومیٹرک پیٹرن، اور انسانی مانند شکلیں شامل ہیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ نقشے صرف فضاء سے ہی صحیح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، کیونکہ زمین پر کھڑے ہو کر یہ بڑی تفصیل کے ساتھ نظر نہیں آتے۔

یہ نقشے عموماً پتھروں اور مٹی کو ہٹا کر سفید یا ہلکے رنگ کی زمین کے نچلے حصے کو ظاہر کر کے بنائے گئے ہیں۔ نازکا لائنز کی لمبائی کئی سو میٹر سے لے کر کئی کلومیٹر تک ہوتی ہے۔ ان میں مشہور شکلیں جیسے اسپات والے ہتھیلی نما اژدہا، مکھی، مرغ، کینگرو، اور ماچو پچو کے قریب ملنے والے مختلف جاندار شامل ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق، نازکا لائنز کا قیام تقریبا 500 قبل مسیح سے 500 عیسوی کے درمیان ہوا۔ مگر ان کا مقصد آج بھی متنازعہ ہے۔ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ یہ نقشے مذہبی یا فلکیاتی مقاصد کے لیے بنائے گئے تھے، جبکہ دوسرے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ پانی کی تلاش یا زرعی کیلنڈر کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ نازکا لوگوں نے ان نقشوں کو اپنے دیوتاؤں کے لیے ایک قسم کی پیشکش کے طور پر بنایا ہو۔ کچھ تجزیہ کاروں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ نقشے آسمانی مخلوقات کے لیے پیغام رسانی کا ذریعہ ہو سکتے ہیں، جو زمین پر آ کر دیکھ سکتے ہیں۔

نازکا لائنز کی تعمیر ایک حیرت انگیز انجینئرنگ کا مظہر ہے۔ ان نقشوں میں استعمال ہونے والے خطوط اتنے سیدھے اور دقیق ہیں کہ انہیں جدید آلات کے بغیر بنانا تقریباً ناممکن لگتا ہے۔ اس بات نے یہ سوال پیدا کیا کہ نازکا لوگوں نے یہ کام کس طرح انجام دیا، خاص طور پر جب ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی۔

دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اور محققین ہر سال نازکا لائنز کو دیکھنے آتے ہیں۔ اکثر لوگ چھوٹے ہوائی جہاز یا ڈرون کے ذریعے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں تاکہ نقشوں کی مکمل تفصیلات کو سمجھا جا سکے۔ یہ مقامات نہ صرف تاریخی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ سیاحتی دلچسپی کے لیے بھی عالمی سطح پر مشہور ہیں۔

نازکا لائنز کی حفاظت ایک اہم مسئلہ بھی ہے۔ غیر قانونی ٹریفک، زلزلے، اور موسمی اثرات کی وجہ سے یہ نقوش خطرے میں ہیں۔ پیرو کی حکومت نے انہیں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس پراسرار جمالیات کو دیکھ سکیں۔

اگرچہ نازکا لائنز کے راز آج بھی مکمل طور پر کھل نہیں پائے، مگر یہ نقشے انسانی تخلیقی صلاحیت اور تاریخی ذہانت کا بہترین ثبوت ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان قدیم زمانے میں بھی کتنی پیچیدہ اور معنی خیز چیزیں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

بھارتی دفاعی تجزیہ کار  پراوین ساہنی، جو دفاعی جریدے Force Magazine کے ایڈیٹر بھی ہیں، نے اپنے ولاگ میں ایران، امریکہ او...
09/03/2026

بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی، جو دفاعی جریدے Force Magazine کے ایڈیٹر بھی ہیں، نے اپنے ولاگ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش کو ایک بالکل مختلف زاویے سے دیکھا ہے۔ ان کا دعویٰ سادہ مگر چونکا دینے والا ہے: ایران یہ جنگ نہیں ہارے گا۔ ان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ کون زیادہ بم گراتا ہے یا کس کے پاس زیادہ جہاز ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ 21ویں صدی کی جنگ کس قسم کے تصور کے مطابق لڑی جا رہی ہے۔
ساہنی کے مطابق ایران کے لیے یہ کوئی محدود فوجی آپریشن نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ جب کسی ریاست کے سامنے وجود کا سوال کھڑا ہو جائے تو اس کی جنگ کی تعریف بدل جاتی ہے۔ ایران کو امریکہ یا اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دینا ضروری نہیں، اسے صرف اپنے نظام، اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر ریاست باقی رہتی ہے تو وہی اس کی فتح ہے۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو طویل جنگوں میں فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران نے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو دانستہ طور پر غیر مرکزی بنایا ہے۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے تب بھی نچلی سطح کے کمانڈر متحدہ کوشش کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ ماڈل روایتی “یونیٹی آف کمانڈ” سے مختلف ہے۔ اس میں نظام کسی ایک شخصیت پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ایک نظریاتی اور قومی ڈھانچے پر قائم ہوتا ہے۔ ساہنی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے سے جنگ ختم نہیں ہوگی۔
ان کے تجزیے کا ایک اہم نکتہ ایرانی قوم پرستی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ ایران ایک قدیم تہذیبی ریاست ہے جس کی جڑیں ہزاروں برس پیچھے جاتی ہیں۔ اس پس منظر میں جنگ کو صرف مذہبی رنگ دینا درست نہیں۔ ایران نے قومیت کو مرکز بنا کر داخلی اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ ساہنی کے مطابق جب بیرونی خطرہ بڑھتا ہے تو داخلی تقسیم کم ہو جاتی ہے اور یہی عنصر طویل مزاحمت کو طاقت دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے میدان میں ساہنی کا مؤقف اور بھی زیادہ جرات مندانہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنگ اب صرف ٹینکوں اور لڑاکا طیاروں کی نہیں رہی بلکہ سگنل، ڈیٹا اور خلا کی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی GPS پر انحصار کم کر کے چین کے BeiDou-3 سسٹم کو اختیار کیا ہے۔ اس سے میزائل اور ڈرون ہدف تک زیادہ درستگی سے پہنچ سکتے ہیں اور جیمنگ کے باوجود مواصلات برقرار رہتے ہیں۔ ساہنی کے بقول اصل ہتھیار اب “سگنل” ہے۔ اگر آپ دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے سکیں، اس کے دفاعی نظام کو غلط شناخت پر مجبور کر دیں، تو بغیر روایتی فضائی برتری کے بھی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
وہ چینی اور روسی تعاون کو بھی کلیدی عنصر قرار دیتے ہیں۔ روس کے S-300 اور S-400 جیسے دفاعی نظام، چینی ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر آلات مل کر ایک تہہ در تہہ دفاعی ڈھانچہ بناتے ہیں۔ ساہنی کا استدلال یہ ہے کہ امریکہ روایتی فضائی برتری کے تصور پر کھڑا ہے، جب کہ ایران اور اس کے اتحادی الیکٹرانک، خلائی اور سائبر میدان میں لڑائی کو پھیلا چکے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی جنگی نوعیت میں طاقت کا معیار بھی بدل جاتا ہے۔
جغرافیہ بھی ایران کے حق میں ایک اہم عنصر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح بحیرہ احمر اور باب المندب کی صورتحال عالمی تجارت کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔ ساہنی کے مطابق یہ وہ دباؤ ہے جو عسکری طاقت سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا اثر عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور سفارتی فیصلوں پر پڑتا ہے۔
وہ خطے میں امریکی اڈوں کی vulnerability کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک میں پھیلے اڈے ڈرون اور میزائل رینج میں ہیں، اور اگر انٹرسیپٹر میزائل محدود ہوں تو مسلسل حملوں کا دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایران کی پیداواری صلاحیت اور نسبتاً کم لاگت ڈرون ٹیکنالوجی اسے طویل جنگ میں برقرار رہنے کی گنجائش دیتی ہے۔
اسرائیل کے بارے میں ساہنی کا کہنا ہے کہ اسے اکثر ناقابلِ شکست قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر طویل اور کثیر محاذی جنگ اس کے لیے بھی چیلنج ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ مکمل سیاسی و عسکری پشت پناہی نہ دے تو اسرائیل کے لیے دو یا تین محاذوں پر لمبی جنگ جاری رکھنا آسان نہیں۔ اس تناظر میں وہ اسرائیل کو امریکہ کے لیے ایک اسٹریٹجک بوجھ قرار دیتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب واشنگٹن کو دیگر عالمی محاذوں پر بھی دباؤ کا سامنا ہو۔
ساہنی کا حتمی نکتہ یہ ہے کہ اصل فرق ذہنیت کا ہے۔ اگر ایک فریق تیزی سے فیصلہ کن ضرب لگا کر نتیجہ نکالنا چاہتا ہو اور دوسرا فریق طویل بقا کی جنگ کے لیے تیار ہو، تو وقت کا پہیہ اکثر دوسرے کے حق میں گھوم جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا کم از کم ہدف یہ ہے کہ خطے میں امریکی عسکری موجودگی کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا اور غیر مؤثر بنا دیا جائے۔ اگر یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو اسے اپنی اسٹریٹجک کامیابی تصور کیا جائے گا، چاہے جنگ کا بیانیہ کچھ بھی ہو۔
یہ تجزیہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جدید جنگ صرف ہتھیاروں کی دوڑ نہیں بلکہ ارادے، ٹیکنالوجی، جغرافیہ، اتحاد اور بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ ساہنی کی نظر میں 21ویں صدی کی جنگ وہ جیتے گا جو ڈیجیٹل، الیکٹرانک اور غیر مرکزی ماڈل کو بہتر سمجھتا ہو۔ ان کے مطابق ایران نے اسی سمت قدم بڑھا دیا ہے، اور اسی لیے وہ یقین سے کہتے ہیں کہ یہ جنگ ایران کے لیے شکست پر ختم نہیں ہوگی بلکہ ایک نئے توازنِ قوت کی بنیاد رکھے گی۔

ایک صوفی بحالتِ سفر کسی خانقاہ میں پہنچا اور اپنے گدہے کو اصطبل میں باندھ کر ڈول میں پانی بھر کر پلایا اور گھاس اپنے ہات...
03/03/2026

ایک صوفی بحالتِ سفر کسی خانقاہ میں پہنچا اور اپنے گدہے کو اصطبل میں باندھ کر ڈول میں پانی بھر کر پلایا اور گھاس اپنے ہاتھ سے ڈالی۔ یہ صوفی ویسا غافل صوفی نہ تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے گدھے کی دیکھ بھال میں کچھ کمی نہیں کی لیکن جب امرشدنی ہو تو احتیاط سے کیا ہوتا ہے۔ اس خانقاہ کے صوفی سب مفلس قلاش تھے اور جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض دفعہ محتاجی کفر تک پہنچادیتی ہے۔ اے تونگر تو پیٹ بھرا ہے کسی درد مند فقیر کی کج روی کا مذا ق نہ اڑا۔
غرض وہ گروہِ صوفیا گدھے کو بیچ ڈالنے کے در پے ہوا اور تاویل اپنے گناہ کی یہ کی کہ ضرورت پر مردار بھی حلال ہوجاتا ہے۔ پھر سب نے مل کر وہ گدھا بیچ دیا اور مزے مزے کے کھانے لائے اور خوب روشنی کی۔ ساری خانقاہ میں دھوم مچ گئی کہ آج رات کو کھانا بھی ہے اور سماع بھی۔ آخر یہ تکلیف اور تین دن کا روزہ کب تک اور کب تک جھولیاں لے کر بھیک مانگتے پھریں۔ آخر ہم بھی تو خدا کے بندے ہیں۔ ہم بھی جان رکھتے ہیں، اس لئے جو ہو سو ہو آج تو ہم بھی دولت کی مہمان داری کریں گے۔ وہ مسافر صوفی اصل حال سے بے خبر یہ راگ رنگ دیکھ رہاتھا۔ اتنے میں خانقاہ والے سب اس کی طرف جھُک پڑے ۔کوئی ہاتھ پاؤں دباتا اور کوئی پوچھتا کہ حضرت کہاں تشریف رکھیں گے۔ کوئی بستر کی گرد جھٹکتا اور کوئی ہاتھ اور منہ کا بوسہ لیتا۔ مسافر صوفی نے اپنے جی میں کہا جب کہ ان صوفیوں کا میلان میری طرف اس درجہ ہے تو میں بھی کیوں نہ عیش میں شرکت کروں۔
القصہ جب سب نے عمدہ عمدہ کھاے کھا لیے تو سماع شروع ہوا، ساری خانقاہ فرش سے لے کر چھت تک گرد اور دھنویں سے اندھیری ہوگئی۔ دھنواں تو باورچی خانے کا تھا اور گرد حالتِ وجد میں پاؤ زمین پر مارنے سے پیدا ہوگئی تھی۔ کبھی تالیاں بجاتے اور دھپ دھپ ٹھوکریں لگاتے اور کبھی مارے سجدوں کے صدر دالان کی جھاڑودیتے۔ جب سماع انتہا کو پہنچا تو قوال نے ایک آستائی بلند سروں میں چھیڑدی اور ’’گدھا رخصت ہوا، گدھا رخصت ہوا‘‘ کی ٹیپ ایسی الاپنی شروع کی کہ اہلِ سماع میں حرارت کی رَو دوڑ گئی اور وہ صوفی مسافر بھی اسی جوش و خروش میں صبح تک پاؤں پیٹا اور سب گانے والوں کے ساتھ ’’گدھا رخصت ہوا۔ گدھا رخصت ہوا‘‘ گاتا رہا۔
جب سماع اختتام کو پہنچا اور جوش و سرمتی کم ہوئی تو دیکھا کہ صبح ہوگئی۔ الوداع کہہ کر رخصت ہوئے۔ ساری خانقاہ خالی ہوگئی صرف مسافر صوفی تنہا رہ گیا تو اس نے اپنے بستر کو جھٹک جھٹکا کر باندھا اور حجرے سے باہر نکالا تاکہ جھٹ پٹ گدھے پر لاد کر ہمراہیوں کے ساتھ روانہ ہوجائے۔ مگر اصطبل میں دیکھا تو گدھا ندارد۔ اپنے جی میں کہا کہ غالباً خانقاہ کا خادم پانی پلانے لے گیا ہوگا۔ کیوں کہ کل اس نے پانی بہت کم پیا تھا۔ جب خادم آیا تو صوفی نے پوچھا کہ گدھا کہاں ہے۔ خادم نے کہا، ہائیں ذرا آپ کی ڈاڑھی تو دیکول۔ بس پھر کیا تھا لڑائی شروع ہوگئی۔ صوفی نے کہا کہ میں نے گدھا تیرے سپرد کیا تھا اور تجھ ہی کو گدھے پر نگراں کیا تھا۔ میں تجھی سے لین دار ہوں تجھ ہی کو دینا پڑے گا۔ ورنہ اگر تو زیادہ حجت کرتا ہے تو چل قاضی کے پاس تصفیہ ہوجائے گا۔ اب خادم دبا اور گِڑ گڑا کر کہنے لگا کہ میں بالکل مجبور تھا۔ سب صوفیوں نے مشورہ کر کے ایک دم حملہ کیا اور مجھے ادھ موا کردیا۔ بھلا ذرا غور تو کر کہ تو کلیجی بلّیوں کے بیچ میں ڈال دے اور پھر اس کے محفوظ رہنے کی امید کرے۔ صوفی نے کہا کہ مانا تجھ سے انہوں نے زبردستی گدھا چین لیا اور مجھ مسکین کی جان پر مصیبت نازل کی لیکن کیا تجھ سے یہ بھی نہ ہوسکتا تھا کہ میرےپاس فریاد کرتا اور کہتا کہ اے بے نوا تیرے گدھے کو لے جارہے ہیں۔
جب تک وہ لوگ یہاں موجود تھے اس وقت تک تو سو طرح کے جتن ممکن تھے لیکن اب تو وہ سب چل دیے۔ اب میں کسے پکڑوں اور کسے قاضی کے پاس لے جاؤں؟ خادم نے کہا کہ واللہ میں کئی بار آیا تاکہ تجھے ان کی کارستانیویں سے واقف کروں مگر تو خود ہی بڑے ذوق میں سب کے ساتھ گدھا رخصت ہوا۔ گدھار رخصت ہوا کہہ رہاتھا۔ جب خود تیری زبان سے میں نے سنا تو اس قیاس پر کہ تو قانع درویش ہے اور گدھے کے جانے پر راضی ہے۔ میں واپس چلا گیا۔ صوفی نے کہا اس جملے کو سب خوش آوازی سے ادا کر رہے تھے تو مجھے بھی اس کے بولنے میں مزا آنے لگا۔ ہائے مجھے ان کی تقلید نے برباد کردیا۔ ایسی تقلید پر سو بار لعنت۔ خاص کر اور ان بے حاصلوں کی تقلید جنہوں نے روٹی کے لیے اپنی عزت گنوائی۔
مأخذ :
کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 58) مطبع : انجمن ترقی اردو (ہند) (1945)

03/03/2026

عجیب ترین چوری کا واقعہ...
ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔
سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔
اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔
سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔
شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔
سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔
سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔
لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔
لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے، کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔
لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔
سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں، اس لیے اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔
شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔
جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔
اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی ۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔
ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔
پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔
پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔ شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔
آج ہمارے ملک کا بالکل یہی حال ہے، ہر چار سال بعد چور بھیس بدل کر ہمارے پاس آتا ہے اور چکنی چپڑی باتوں سے ملک اور عوام کا سامان لوٹ کر پتلی گلی سے نکل لیتا ہے... ہر دفعہ ایک نیا منظر، نیا لباس، نیا بہروپ ، نئی شکل اور نیا حربہ جس سے عوام دھوکہ کھا کر اعتبار کرتیے ہیں
اور، اور آخر میں محافظوں سمیت نکلتا وہی چور۔

ایک چور رات کے وقت ایک باغ میں گھس آیا۔وہ دبے پاؤں آم کے درخت پر چڑھا اور شوق سے آم کھانے لگا۔اتفاق سے باغبان وہاں آن پہ...
02/03/2026

ایک چور رات کے وقت ایک باغ میں گھس آیا۔
وہ دبے پاؤں آم کے درخت پر چڑھا اور شوق سے آم کھانے لگا۔

اتفاق سے باغبان وہاں آن پہنچا۔
اس نے اوپر نظر اٹھا کر کہا:
“او بے شرم! یہ کیا حرکت ہے؟”

چور مسکرایا، بڑی سنجیدگی سے بولا:
“ارے نادان! یہ باغ اللہ کا ہے، میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔
وہی مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں۔
میں تو بس اس کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں،
ورنہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی حرکت نہیں کرتا۔”

باغبان نے عاجزی سے سر جھکایا اور بولا:
“حضرت! آپ کا وعظ سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔
ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ
میں آپ جیسے کامل مومن کی دست بوسی کر سکوں۔
سبحان اللہ! اس جہالت کے دور میں
آپ جیسا عارفِ توحید مل جانا غنیمت ہے۔
واقعی! جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے
اور بندے کا کوئی اختیار نہیں۔
براہِ کرم نیچے تشریف لائیے۔”

چور اپنی تعریف سن کر پھولے نہ سمایا،
فوراً درخت سے نیچے اتر آیا۔

جیسے ہی وہ نیچے پہنچا،
باغبان نے اسے پکڑ لیا،
رسی سے درخت کے ساتھ باندھ دیا
اور خوب ڈنڈے برسانا شروع کر دیے۔

چور چیخ اٹھا:
“اے ظالم! کچھ تو رحم کر،
میرا جرم اتنا نہیں جتنا تُو مجھے مار رہا ہے!”

باغبان ہنس کر بولا:
“جناب! ابھی تو آپ فرما رہے تھے
کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے،
اور اس کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔
اگر آم کھانے والا اللہ کا بندہ تھا،
تو مارنے والا بھی اللہ کا بندہ ہے۔
اور یہ سب بھی اسی کے حکم سے ہو رہا ہے،
کیونکہ اس کے حکم کے بغیر
تو پتہ بھی نہیں ہلتا۔”

چور نے ہاتھ جوڑ دیے،
آنکھوں میں ندامت آ گئی،
اور کہا:
“خدارا! مجھے چھوڑ دے۔
اصل مسئلہ اب میری سمجھ میں آ گیا ہے
کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ہوتا ہے!”

باغبان نے کہا:
“اور اسی اختیار کی وجہ سے
انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کا
ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔”

اخلاقی سبق (Moral Lesson)

1. تقدیر کے نام پر گناہ کو جائز قرار دینا خود فریبی ہے۔

2. اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے، اسی لیے جزا و سزا کا تصور قائم ہے۔

3. جب فائدہ ہو تو جبر، اور جب نقصان ہو تو اختیار، یہ رویہ منافقت ہے۔

4. اصل معرفت یہ ہے کہ انسان اپنے عمل کی ذمہ داری قبول کرے۔

حوالہ (Reference)

یہ حکایت مثنوی معنوی میں
جبر و اختیار (Free Will vs Determinism) کے فلسفے کی وضاحت کے لیے بیان کی گئی ہے،
جہاں مولانا رومیؒ انسان کو
تقدیر اور اختیار کے درمیان متوازن فہم سکھاتے ہیں۔

وہ چارپائی جس نے تقدیر بدل دی✦ ✦ شکر کا درخت ✦ ✦ڈاکٹر صاحب دفتر میں داخل ہوئے تو صبح کی دھوپ پردوں سے چھن کر فرش پر بکھر...
01/03/2026

وہ چارپائی جس نے تقدیر بدل دی

✦ ✦ شکر کا درخت ✦ ✦

ڈاکٹر صاحب دفتر میں داخل ہوئے تو صبح کی دھوپ پردوں سے چھن کر فرش پر بکھری ہوئی تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی نظر اس دھوپ پر نہیں، ایک چھریرے سے جسم پر تھی جو جھاڑو دے رہا تھا۔

لڑکی کے کپڑے کبھی سفید رہے ہوں گے، مگر اب ان کا رنگ گرد اور مٹی سے ایسا گھلا ملا تھا کہ پہچانا مشکل تھا۔ اس کی عمر بمشکل 20-22 سال ہوگی۔ چہرے کی جھائیوں میں ابھی بچپن باقی تھا، مگر ہاتھوں کی کھردری میں پوری جوانی کی محنت لکھی تھی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنی سیکرٹری عشرت سے پوچھا، "یہ نئی لڑکی کون ہے؟"

"جی، پچھلی صفائی والی آپا بیمار ہو گئیں ہیں، ان کی جگہ یہ آ گئی ہے۔ یہ بہت محنتی ہے، ڈاکٹر صاحب۔ بس بہت خاموش ہے۔"

خاموشی... ڈاکٹر صاحب کو یہ لفظ اچھا لگا۔ شور کی اس دنیا میں خاموشی ایک نعمت تھی۔

دن گزرتے گئے، مہینے بدلے۔ اس لڑکی کی آنکھوں میں ڈاکٹر صاحب کو ایک عجیب سی حیا نظر آتی، جیسے کوئی بہت قیمتی راز چھپا بیٹھی ہو۔ وہ کبھی کسی سے بے مقصد باتیں نہیں کرتی تھی، نہ چائے کے وقفے لیتی، نہ سیل فون کی طرف دیکھتی۔ بس اپنا کام کرتی اور غائب ہو جاتی۔

چھ مہینے بعد ایک دن عشرت نے آ کر کہا، "ڈاکٹر صاحب، اس لڑکی کو آپ دو چارپائیاں دلا دیں۔"

ڈاکٹر صاحب نے قلم رکھ دیا۔ "کیوں؟ کیا ہوا؟"

عشرت نے بیٹھتے ہوئے آہ بھری۔ "کل رات کا واقعہ ہے۔ میں دفتر بند کر رہی تھی، رات کے ساڑھے آٹھ بج گئے تھے۔ دیکھا کہ یہ لڑکی گیٹ پر کھڑی ہے۔ میں نے پوچھا، 'ابھی تک گئی نہیں؟' بولی، 'شوہر نہیں آیا لینے۔' میں نے سوچا، بیٹھے بیٹھے کتنا انتظار کرے گی۔ کہا، 'چلو، میں تمہیں چھوڑ دیتی ہوں۔'"

"ہم سائیکل پر اس کے گھر گئے۔ شہر سے باہر، پرانے تھانے کے پیچھے، بھینسوں کے باڑوں والی گلی میں۔ ایک کچی منڈی سی ہے وہاں، جہاں شام ڈھلتے ہی سنسان ہو جاتی ہے۔ اس نے کہا، 'عشرت آپا، یہاں سے آگے مت آئیں، میں چلی جاؤں گی۔' لیکن میں نے کہا، 'نہیں، اندر تک چلوں گی۔'"

"ڈاکٹر صاحب، میں نے اندر قدم رکھا تو پاؤں نیچے سے زمین کھسک گئی۔ ایک کوٹھری سی تھی، اندھیرا۔ ایک لالٹین جل رہی تھی، دھواں دار روشنی۔ زمین پر دو چھوٹے بچے سوئے ہوئے تھے۔ نہ چارپائی، نہ توشک، نہ گدا۔ صرف زمین پر پرانی سی چادر بچھی تھی۔"

"میں نے پوچھا، 'تم اور تمہارا خاوند کہاں سوتے ہو؟' اس نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ وہاں بھی زمین پر ہی ایک اور پرانی سی چادر پڑی تھی۔ میں نے پوچھا، 'برتن کہاں ہیں؟' تو وہ چپ ہو گئی۔ باہر نلکے کے پاس دو مٹکے رکھے تھے، جن میں سے ایک میں پانی تھا، ایک خالی۔ اور دو تین دیگچے۔ سب کچھ اتنا کم کہ میں حیران رہ گئی۔"

عشرت کی آنکھیں نم تھیں۔ ڈاکٹر صاحب خاموش سنتے رہے۔

اگلے دن انہوں نے عشرت کو کہا، "بازار سے دو مضبوط چارپائیاں لے آؤ۔ چارپائیاں، توشک، تکیے، دو کمبل۔ اور کچن کے لیے برتنوں کا مکمل سیٹ۔ یہ لے لو، اور کچھ کپڑوں کے پیسے بھی۔"

جب عشرت نے یہ سامان اس لڑکی کو پہنچایا تو وہ رکشے سے سامان اتارتے ہوئے کانپ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رکے نہیں جا رہے تھے۔ اگلے دن وہ دفتر آئی تو ڈاکٹر صاحب کے قدموں میں گرنا چاہتی تھی، مگر ڈاکٹر صاحب نے روک دیا۔ "یہ سب اللہ کا فضل ہے، بیٹا۔"

چند روز گزرے۔

ایک جمعرات کی رات تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے صلاۃ التسبیح کا ارادہ کیا۔ نوافل پڑھتے ہوئے ان کا دل ایک عجیب سی کیفیّت میں ڈوب گیا۔ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زمین سے اٹھ کر کسی اور جہاں میں ہیں۔ چاروں طرف نور تھا۔ سفید لباس میں ملبوس فرشتے صف بستہ کھڑے تھے۔ ایک دھیمی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی، جیسے صبح کا اجالا ہو۔

اچانک ایک آواز آئی، گرج سے زیادہ پُروقار، لیکن شہد سے زیادہ میٹھی۔ وہ آواز دل کے تاروں کو چھو گئی۔

"میرے بندے کی عبادت کا ثواب دوگنا کر دو۔"

ڈاکٹر صاحب نے چونک کر دیکھا تو فرشتے آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے۔ ان کی باتیں ان تک پہنچ رہی تھیں۔

"کیا مانگ لیا اس بچی نے رب سے؟"
"اس نے اتنا بڑا انعام پا لیا؟"
"یہ تو ساری عمر کی عبادت کے برابر ہے۔"

ڈاکٹر صاحب کی آنکھ کھل گئی۔ نماز مکمل کی تو پیشانی سجدے میں رکھے رہے۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔ انہوں نے سوچا، "یہ کون سی بچی تھی؟ کس نے میرے لیے دعا کی؟"

صبح ہوتے ہی انہوں نے عشرت کو بلایا۔ "اس لڑکی کو فوراً میرے پاس بھیجو۔"

لڑکی آئی تو ڈاکٹر صاحب نے اسے بٹھایا۔ پھر پوچھا، "بیٹا، اس رات تم نے میرے لیے کوئی خاص دعا کی تھی؟ جس رات تمہیں چارپائیاں ملی تھیں؟"

لڑکی نے حیرانی سے دیکھا۔ "دعا؟ ڈاکٹر صاحب، میں نے تو کوئی دعا نہیں مانگی تھی۔"

ڈاکٹر صاحب نے اصرار کیا۔ "سوچو بیٹا، بہت غور سے سوچو۔ تم نے رات کو کیا کیا تھا؟"

لڑکی نے آنکھیں بند کیں، پھر کھول دیں۔ "جی، وہ رات... میں نے پہلی بار زندگی میں اپنی چارپائی دیکھی تھی۔ اپنے بچوں کے لیے نرم گدے۔ اوڑھنے کے لیے گرم کمبل۔ میں بہت خوش تھی۔ بہت زیادہ۔ بچے سو گئے تو میں چارپائی پر لیٹی۔ چارپائی کی رسیوں کی آواز آ رہی تھی۔ اور مجھے یاد آیا کہ یہ سب کس کی بدولت ملا ہے۔"

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "میں نے سوچا، میرے رب نے مجھے ایسا کیوں نوازا؟ میں نے تو کچھ کیا نہیں۔ میں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ بس بار بار کہتی رہی، 'الحمدللہ، الہٰی تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔' اور دل میں ڈاکٹر صاحب کے لیے دعا تھی، کہ اللہ انہیں صحت دے، خوش رکھے۔ بس یہی تھا۔ دعا نہیں تھی، صرف شکر تھا۔"

ڈاکٹر صاحب کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ رونے لگے۔ ایک کروڑ پتی ڈاکٹر، جس کے پاس سب کچھ تھا، وہ اس لڑکی کے سامنے رو رہا تھا جس کے پاس کبھی کچھ نہیں تھا۔

انہوں نے پوچھا، "بیٹا، مجھے اپنی کہانی سناؤ۔ کیسے گزری زندگی؟"

لڑکی نے آہ بھری۔ "ابو موچی تھے، گوالمنڈی کے باہر بیٹھتے تھے۔ جب میں چودہ سال کی تھی، میری شادی ہو گئی۔ امی ابا نے خالہ زاد بھائی سے رشتہ کر دیا۔ شوہر موٹر سائیکل کی دکان پر کام کرتا ہے، کبھی پانچ سو کما لاتا ہے، کبھی ہزار۔ شادی کے ایک سال میں اللہ نے جڑواں بچے دے دیے۔"

"پہلے سسرال والوں نے گاؤں میں ایک جھونپڑی دے دی تھی، پھر وہاں سے نکال دیا۔ اس کے بعد بھینسوں کے باڑے میں ایک کونا مل گیا۔ بھینسوں کے ساتھ رہے۔ پھر جب یہاں صفائی کی نوکری ملی تو یہ کرائے کا کمرہ مل گیا۔"

ڈاکٹر صاحب نے پوچھا، "اتنی تکلیف میں بھی تم نے کبھی شکایت کی؟"

لڑکی نے سر جھٹک دیا۔ "شکایت؟ کیسی شکایت ڈاکٹر صاحب؟ اللہ نے تو ہمیں زندہ رکھا۔ کبھی سوکھی روٹی کھائی، کبھی پیاز کے ساتھ، کبھی بس نمک کے ساتھ۔ پانی پی کر پیٹ بھر لیا۔ میں سوچتی، اور بھی لوگ ہوں گے جنہیں یہ سوکھی روٹی بھی نہیں ملتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے بچے زندہ ہیں، میرے پاس ہیں۔"

ڈاکٹر صاحب خاموش رہے۔

پھر انہوں نے پوچھا، "اس رات، جب تم نے شکر کیا تھا، اس کے بعد کیا ہوا؟"

لڑکی نے کہا، "اس رات مجھے لگا جیسے میرے اوپر نور برس رہا ہے۔ میرے رب نے مجھے اتنا دیا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ میں خوشی سے رو رہی تھی۔ رو رہی تھی اور بس کہہ رہی تھی، 'الحمدللہ، الحمدللہ'۔"

ڈاکٹر صاحب نے اس لڑکی کو دیکھا۔ اس کے پاس کبھی کچھ نہیں تھا، مگر آج وہ امیر ترین انسان تھی۔ اس کے پاس وہ چیز تھی جو ڈاکٹر صاحب کو نہیں ملی تھی۔ قناعت۔ شکر۔ وہ چیز جس نے ایک غریب لڑکی کی چارپائی کو عرش سے بھی بلند کر دیا۔

آج بھی وہ لڑکی اس چارپائی پر سوتی ہے۔ لیکن اب اس کے گھر میں چارپائیاں ہی نہیں، سکون ہے، محبت ہے، اور سب سے بڑھ کر رب کی رضا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے اس کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست کر دیا۔ اس کے شوہر کو اچھی نوکری دلا دی۔ لیکن وہ کہتے ہیں، "میں نے اسے جو کچھ دیا، اس سے زیادہ وہ مجھے دے گئی۔ اس نے مجھے سکھایا کہ نعمت کیا چیز ہے۔"

خلاصہ: دولت وہ نہیں جو جیب میں ہو، دولت وہ ہے جو دل میں ہو۔ ایک غریب لڑکی کی چارپائی نے اسے وہ مقام دے دیا جو کروڑ پتی ڈاکٹر کو بھی میسر نہ تھا۔ اس کی سادہ سی "الحمدللہ" نے اس کی چارپائی کو عرشِ الٰہی سے بھی بلند کر دیا۔ کبھی کبھی شکر ہی سب سے بڑی دعا ہوتی ہے۔

سوال: کیا آپ نے کبھی اپنی موجودہ چارپائی پر لیٹ کر اس کا شکر ادا کیا ہے، یا نعمتیں پانے کی دعا مانگتے مانگتے ملنے والی نعمتوں کا شکر ہی بھول گئے ہیں؟

وہ کنواری تھی اور ڈیلیوری روم میں چیخ رہی تھی — باہر صرف میں بیٹھا تھا، اس نے ریکارڈ پر میرا نام لکھوا دیا، اور کہا: اب ...
01/03/2026

وہ کنواری تھی اور ڈیلیوری روم میں چیخ رہی تھی — باہر صرف میں بیٹھا تھا، اس نے ریکارڈ پر میرا نام لکھوا دیا، اور کہا: اب تم میرے بچے کے باپ ہو

✦ ✦ دھوپ میں کھڑا سایہ ✦ ✦

رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، گوجرانوالہ کی ایمرجنسی وارڈ کی لمبی کوریڈور میں صرف دو آدمی تھے۔ ایک میں، اور دوسرا وہ بوڑھا چوکیدار جو گھنٹی بجا کر مریضوں کے ملنے کا وقت ختم ہونے کا اعلان کرتا ہے۔

میں وہاں اس لیے تھا کہ میرا دوست راشد شرما رحمت اللہ علیہ کی فاتحہ کے بعد اچانک بیمار ہو گیا تھا۔ اس کی بیوی نے فون کیا تو مجھے آنا پڑا۔ راشد اب باہر آ کر بیٹھا تھا، میں صرف اُس کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ ڈسچارج ہو جائے اور ہم اکٹھے واپس جائیں۔

تبھی وارڈ کے اندر سے ایک چیخ آئی۔

ایسی چیخ کہ کوریڈور کی ساری نیند جاگ اٹھی۔ بوڑھا چوکیدار اپنی کرسی پر چونکا، اور میں نے بے اختیار اُس طرف دیکھا جہاں سے آواز آ رہی تھی۔

لیبر روم۔

دوسری چیخ۔ تیسری۔ پھر ایک لمبی، کپکپا دینے والی آواز جو دیواروں سے ٹکرا کر لوٹی۔

میں نے راشد کی طرف دیکھا۔ وہ بے ہوشی کی دوا کے اثر میں تھا، اُسے کچھ خبر نہیں تھی۔ میں وہاں سے جانا چاہتا تھا مگر پیروں میں جان نہیں تھی۔ وہ چیخیں میرے اندر اتر رہی تھیں۔

پھر اچانک خاموشی چھا گئی۔

تھوڑی دیر بعد لیبر روم کا دروازہ کھلا۔ ایک نرس باہر نکلی، اُس کے ہاتھ میں کاغذ کی فائل تھی۔ اُس نے کوریڈور میں نظریں دوڑائیں۔ صرف میں اور وہ بوڑھا چوکیدار۔ نرس سیدھی میرے پاس آئی۔

"آپ کے ساتھ کون ہے یہاں؟"

"میں اپنے دوست کے ساتھ آیا ہوں، وہ..."

"مریضہ کا نام بتائیں۔"

میں حیران رہ گیا۔ "مجھے کیا معلوم؟ میں تو..."

نرس نے میری بات کاٹ دی۔ "مریضہ کہہ رہی ہے کہ اُس کا شوہر باہر بیٹھا ہے۔ آپ کے سوا کوئی مرد یہاں نہیں۔"

میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔

"میں؟ میں شوہر؟ میرا اُس عورت سے کوئی واسطہ نہیں۔"

نرس نے مجھے اوپر سے نیچے دیکھا۔ ایسی نظروں سے جیسے میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ "آئیے اندر۔ مریضہ خود آپ سے بات کرے گی۔"

---

میں لیبر روم کے اندر تھا۔ وہ بستر پر لیٹی تھی، بالکل سفید چادر تلے۔ چہرہ زرد، آنکھیں سوجھی ہوئی، پیشانی پسینے سے تر۔ اُس کے پاس ایک چھوٹا سا بنڈل تھا، کپڑے میں لپٹا ہوا۔ نوزائیدہ بچہ۔

اُس نے مجھے دیکھا تو آنکھوں میں عجیب سی چمک آئی۔ نرس باہر چلی گئی تو وہ بولی۔

"بیٹھ جاؤ۔"

میں کھڑا رہا۔ "تم کون ہو؟ مجھے کیوں بلایا؟"

اُس نے آہستہ سے بچے کو سینے سے لگایا۔ "میرا نام شبینہ ہے۔ تمہیں جانتی نہیں۔ مگر مجبور ہوں۔"

"مجبور؟"

"میں غیر شادی شدہ ہوں۔" اُس کی آواز بالکل بے حس تھی، جیسے یہ الفاظ اُس نے ہزار بار کہے ہوں۔ "اور ابھی ابھی ماں بنی ہوں۔ تم ہی وہاں بیٹھے تھے۔ تنہا۔ میں نے سوچا، قسمت۔"

میرا دماغ گھوم رہا تھا۔ "مجھے ان سب سے کیا؟ میں تو یہاں اپنے دوست کے ساتھ آیا تھا۔"

شبینہ نے میری طرف دیکھا۔ آنکھیں بالکل خشک۔ "تمہیں لگتا ہے میں نے یہ سب منصوبہ بنا کر کیا ہے؟ میں چیخ رہی تھی اندر، تم باہر بیٹھے سن رہے تھے۔ میں نے نرس سے پوچھا، باہر کون ہے؟ اُس نے بتایا، ایک آدمی بیٹھا ہے، بہت پریشان لگتا ہے۔ میں نے کہا، وہی میرے بچے کا باپ ہے۔"

"تم نے جھوٹ بولا؟"

"جھوٹ؟" اُس کی آواز میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی۔ "تم جانتے ہو اس شہر میں کنواری ماں کا کیا حشر ہوتا ہے؟ میرے ابا مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ میرے بھائی میرے پیچھے پتھر پھینکیں گے۔ اور یہ بچہ... یہ بچہ کبھی اس معاشرے میں اپنا چہرہ دکھا نہیں سکے گا۔"

میں نے دیوار کا سہارا لیا۔ "اور میں؟ تمہیں کیا لگتا ہے میرے ساتھ کیا ہو گا؟ میری منگنی ہونے والی ہے۔ میری امی... میرے ابا..."

شبینہ نے بچے کو آہستگی سے جھولا۔ "تمہارا نام کیا ہے؟"

"ارشاد۔"

"ارشاد۔" اُس نے نام دہرایا، جیسے کوئی قیمتی چیز تول رہی ہو۔ "ارشاد، میں نے ریکارڈ پر تمہارا نام لکھوا دیا ہے۔ اب تم اس بچے کے باپ ہو۔ کاغذی باپ۔ بس کاغذی۔ میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گی۔ نہ پیسے، نہ وقت، نہ کوئی رشتہ۔ بس تم اتنا کر دو کہ کل جب کوئی پوچھے تو کہہ دو کہ ہماری شادی ہوئی تھی۔ کہہ دو کہ یہ تمہارا بچہ ہے۔"

میں نے سر ہلایا۔ "یہ پاگل پن ہے۔"

"پاگل پن؟" شبینہ نے پہلی بار آنکھیں اونچی کیں۔ "یہ معاشرہ پاگل ہے ارشاد۔ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ میں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا۔ مگر میں عورت ہوں، اور میں نے پیار کیا۔ وہ آدمی، جس سے میں نے پیار کیا، اُس نے شادی سے انکار کر دیا جب میں نے بتایا کہ ماں بننے والی ہوں۔ وہ بھاگ گیا۔ کل وہ کہیں اور جا کر اپنی زندگی شروع کر دے گا۔ اور میں؟ میں اس کمرے میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ رہی ہوں۔"

میں خاموش تھا۔

شبینہ نے بچے کو اپنے سے لگایا۔ "تم مجھے بتا سکتے ہو، میں نے کیا غلط کیا؟ وہ آدمی آیا، مجھے چاند دکھائے، وعدے کئے، اور چلا گیا۔ میں نے اُسے روکا نہیں۔ میں نے اُس کا پیچھا نہیں کیا۔ میں نے صرف یہ کیا کہ اپنے بچے کو آنے دیا۔ یہ میرے پیٹ میں ہے، میری روح میں ہے، میرا ہے۔ مگر یہ معاشرہ اسے میرا نہیں مانے گا۔ اسے 'حرام' کہے گا۔ 'نا جائز' کہے گا۔ اور اس بچے کی ساری زندگی، پہلے دن ہی ختم ہو جائے گی۔"

میری آنکھوں میں آنسو تھے۔

"میں تم سے کیا مانگ رہی ہوں؟" شبینہ نے آواز نرم کی۔ "بس تمہارا نام۔ ایک جھوٹ۔ ایک جھوٹ جو اس بچے کو سچی زندگی دے دے۔ کل سے لوگ پوچھیں گے، باپ کون ہے؟ میں کہوں گی، ارشاد۔ اور ارشاد نام کا کوئی آدمی، کہیں دور، زندہ ہے۔ بس۔ تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تم اپنی منگنی کرو، شادی کرو، بچے پیدا کرو۔ میں تمہارا پیچھا نہیں کروں گی۔ میں قسم کھا کر کہتی ہوں۔"

میں نے دیوار سے سر ٹیک دیا۔ "میری امی... وہ کیسے مانے گی؟"

"تمہاری امی کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ میں یہ شہر چھوڑ دوں گی۔ کراچی چلی جاؤں گی۔ وہاں کوئی نہیں جانتا مجھے۔ وہاں میں کہہ دوں گی، میرا شوہر فوت ہو گیا، یہ اس کا بچہ ہے۔ تمہارا نام کبھی نہیں لوں گی۔"

"اور اگر کبھی پتہ چل گیا؟"

شبینہ نے بچے کو دیکھا۔ "اگر پتہ چل گیا تو میں کہوں گی، ہاں، ارشاد اس بچے کا باپ ہے۔ اور ارشاد نام کا کوئی آدمی، جسے میں نے صرف ایک رات دیکھا، ہسپتال کی کوریڈور میں، جب میں ڈر رہی تھی اور وہ وہاں بیٹھا تھا... وہ آدمی، جس نے میری سنی، میری بات مانی، اور میرے بچے کو اپنا نام دیا۔ وہ آدمی، جس نے مجھے زندہ رہنے دیا۔"

میں رو رہا تھا۔

---

صبح ہوئی تو میں ہسپتال سے باہر نکلا۔ راشد پہلے جا چکا تھا۔ میرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پرچہ تھا، جس پر شبینہ نے اپنا پتہ لکھا تھا۔ کراچی کا پتہ۔ اُس نے کہا تھا، "اگر کبھی بچے کو دیکھنا چاہو تو آ سکتے ہو۔ مگر وعدہ کرو، تم نہیں آؤ گے۔ کیونکہ اگر آؤ گے تو سب جھوٹ کھل جائے گا۔"

میں نے وعدہ کر لیا تھا۔

آج بیس سال گزر گئے۔

میری شادی ہوئی، تین بچے ہیں، میں گوجرانوالے میں ہی ہوں۔ کبھی کراچی نہیں گیا۔ کبھی شبینہ کو نہیں ڈھونڈا۔ مگر ہر سال، 15 اگست کو، مجھے ایک خط آتا ہے۔ کراچی سے۔ اندر صرف ایک تصویر ہوتی ہے۔ ایک لڑکے کی، بڑا ہوتا ہوا۔ پہلے سکول یونیفارم میں، پھر کالج میں، پھر گریجویشن کی ٹوپی پہنے۔ تصویر کے پیچھے لکھا ہوتا ہے: "ارشاد، یہ تمہارا بیٹا ہے۔"

میں نے کبھی جواب نہیں دیا۔

مگر وہ تصویریں، میرے پاس سنبھال کر رکھی ہیں۔ ایک ڈبے میں۔ جسے میرے علاوہ کوئی نہیں کھولتا۔

کل رات پھر خط آیا۔

تصویر میں ایک نوجوان ہے، سفید شلوار قمیض میں، مسجد کے باہر کھڑا۔ داڑھی رکھ لی ہے، چہرے پر نور ہے۔ تصویر کے پیچھے لکھا ہے: "ارشاد، آج تمہارا بیٹا حافظ قرآن بن گیا۔ دعا کرو۔"

میں نے ڈبہ بند کیا، اور صبح تک جاگتا رہا۔

---

سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟

اُس رات ہسپتال کی کوریڈور میں، میں نے صرف اپنا نام دیا تھا۔ مگر اس نام نے، ایک بچے کو ماں دی، عزت دی، زندگی دی۔ اور مجھے... مجھے ہر سال ایک تصویر دی، جسے دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ شاید، کہیں نہ کہیں، میرا بھی ایک بیٹا ہے۔

جسے میں نے کبھی دیکھا نہیں۔

جس نے کبھی مجھے دیکھا نہیں۔

مگر جو، ہر سال مجھے بتاتا ہے کہ میں زندہ ہوں۔

---

خلاصہ: ایک عورت کی مجبوری، ایک اجنبی کی خاموشی، اور ایک نام کی طاقت نے مل کر ایک بچے کو معاشرے میں جینے کا حق دیا۔ کبھی کبھی جھوٹ، سچ سے زیادہ معاف کر دینے والا ہوتا ہے۔ 💔

سوال: اگر آپ ارشاد کی جگہ ہوتے، تو کیا کرتے؟ اپنا نام دے دیتے، یا انکار کر کے چلے جاتے؟

Address

SamanAbad
Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when True or Lie posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category