صراط مستقیم

صراط مستقیم The sole purpose of this page is to give guidance to those who are strayed� This page is about Islam�

21ویں سالانہ مجلس عزاء بسلسلہ  برسی مہر محمد رمضان ، زوجہ ، دختر  و جملہ مومنین و مومناتبتاریخ  23 مارچ  بروز سوموار  20...
03/03/2026

21ویں سالانہ
مجلس عزاء بسلسلہ برسی مہر محمد رمضان ، زوجہ ، دختر و جملہ مومنین و مومنات

بتاریخ 23 مارچ بروز سوموار 2026

تمام مسلمین سے شرکت کی اپیل ہے۔

سالانہ مجلس عزاءبسلسلہ برسی مہر محمد رمضان میتلا و زوجہ و دختر
29/03/2025

سالانہ مجلس عزاءبسلسلہ برسی مہر محمد رمضان میتلا و زوجہ و دختر

18/07/2024

امتحان حسین ختم شد
امتحان زینب شروع است

17/07/2024

اَلّلھُمَ لَعَنَ قَتلَتَ اَلحُسَیِنَؑ َوَ اُولاَدُ الَحُسِینؑ وَ اَصحَابُ الحُسینؑ علیہ السّلام

16/07/2024

🔷 کربلا اچانک نہیں ہوئی ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی 🔷

آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔

کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔

حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔

حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔

حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔

حضرت عمار یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔

حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔

تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وفات نبی کریم ص کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔

آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔

دوسری طرف جو افراد نبی کریم ص کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے, ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔

نبی کریم ص کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔

کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم ص کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔

تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

آج چودہ صدیاں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین علیہم السلام جنت کے سردار ہیں۔

ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔

مورخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔

کربلا اچانک نہیں ہوئی۔
ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا, نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔

اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔

چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔

امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مورخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے, انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔

24 ذوالحجہ کو واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گٸی۔ اس واقعہ میں بنص قران پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئے اور قران مجید نےانہیں صداقت کی سند عطا کی۔
واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہیستی کا وصال ہوا جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟؟

پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کردیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔

پھر اسی گھرانے کا تیسرا جنازہ 40 ہجری میں کوفہ سے آدھی رات کے وقت اٹھا اور پشتِ کوفہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور مدتوں قبر کا نشان نامعلوم رہا۔

پھراسی جماعت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کی مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حاٸل ہوٸے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جا سکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا گیا۔

بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مورخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جنکی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا۔؟

ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھائیں گے
مجھے لگتا ھے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد کا مورخ وھی ھے جسکی اولاد نے پاکستان میں معاشرتی علوم لکھی.

18 سالانہ مجلس عزاء بسلسلہ برسی مہر محمد رمضان میتلا و زوجہ و جملہ مومنین و مومناتبروز ہفتہ 13 اپریل 2024امام بارگاہ حسی...
12/04/2024

18 سالانہ مجلس عزاء بسلسلہ برسی مہر محمد رمضان میتلا و زوجہ و جملہ مومنین و مومنات

بروز ہفتہ 13 اپریل 2024

امام بارگاہ حسینہ سجادیہ بستی توقیر نگر نزد ڈنگیاں پلاں/ المعروف میتلا والی بھینی
https://maps.app.goo.gl/LcHP5CSjvTmFkB5T7?g_st=iw

مولانا عسکری مقدسی
زاکر مرید عباس بھٹی
مولانا اعجاز حسین مطہری
زاکر حبدار حسین قریشی
مولانا مختار نقوی
مولانا غلام شبیر بہشتی

مستورات کے لیے پردے کا انتظام ہوگا

لنگر کا وسیع انتظام ہو گا

بھر پور شرکت کی اپیل ہو گی۔

29/03/2024

*Born in the Purest of Places (Ka'bah), the best of days (Friday), martyred in the best of months (Ramadan), in the best of nights (Qadr), in the best of moments (Salah/Namaz), in the best of Positions (Sajdah) and was married to the best of Worlds' women (Fatima), yet they still question why I love you ya Ali (a.s).*

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صراط مستقیم posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category