Meedan E Fikr

Meedan E Fikr Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Meedan E Fikr, Pakistan, Lahore.

یہ پیج تاریخ کے اہم واقعات، اور موجودہ عالمی جنگی حالات پر ایک غیر جانبدار اور تحقیق پر مبنی نکتہ نظر فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ تاریخ کو سیکھنے، سوال کرنے اور سمجھنے کے شوقین ہیں، تو یہ آپ کا ہی پیج ہے۔
Pak Forces Zindabad

10/05/2026
پاکستانی بہت خوش تھے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے، تب تھنک ٹینگز یہ کہ رہے تھے کے سب  سے زیادہ چیخیں انہی لوگ...
09/05/2026

پاکستانی بہت خوش تھے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے، تب تھنک ٹینگز یہ کہ رہے تھے کے سب سے زیادہ چیخیں انہی لوگوں کی نکلیں گی جو اس وقت نظریاتی طور پر ایران کے حمایتی ہیں۔
آبنائے ہرمز بند کرنے سے کیا امریکہ کو نقصان ہوا ہے یا اسرائیل کو؟ امریکہ کی تیل کی مانگ بڑھ رہی ہے اور وہ بھی مہنگے داموں، لیکن اس کا خمیازہ کون بھگت رہا ہے؟ ہم پاکستانی اور ایشیا کے کئی اور ممالک جو مڈل ایسٹ کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
اسرائیل آذربائیجان سے اپنی ضرورت کا 50 فیصد تیل پائپ لائن کے ذریعے لیتا ہے، ایران نے وہاں حملہ کیوں نہیں کیا ابھی تک؟ اس سے تو کچھ دنوں میں اسرائیل گھٹنوں کے بل آسکتا تھا، اور امریکہ پر بھی دباؤ بڑھایا جاسکتا تھا۔
ایران کا اسلام کی سربلندی سے کوئی تعلق نہیں، یہ بس عربوں میں اپنی اجارہ داری بنانے کی خاطر اس شیطانی ریاست نے ساری دنیا کا امن داؤ پر لگایا ہوا ہے۔
#

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جو عیش و طرب سے لبریز زندگی کے زہد و شہا...
07/05/2026

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جو عیش و طرب سے لبریز زندگی کے زہد و شہادت میں بدلنے کی بے مثال داستان سناتا ہے۔ مکہ کا وہ وجیہہ نوجوان، جس کے لباس کی نفاست اور خوشبوؤں کے چرچے پورے شہر میں عام تھے اور جس کی پرورش ناز و نعم کی انتہا پر ہوئی تھی، جب عشقِ الٰہی سے سرشار ہوا تو دنیا کی ہر آسائش خاک برابر ہو گئی۔ دارِ ارقم کی خاموشیوں میں قرآن کی صداؤں نے ان کے دل کی بستی ایسی بسائی کہ پھر نہ ماں کی مامتا کی چھاؤں رہی اور نہ ہی خاندانی ثروت کا سایہ؛ انہوں نے حق کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں جھلیں اور حبشہ و مدینہ کی ہجرتوں کے مسافر بن گئے۔ مدینہ منورہ میں اسلام کے پہلے سفیر کی حیثیت سے ان کا کردار اس قدر مؤثر رہا کہ ان کے حسنِ اخلاق اور دعوت کی بدولت مدینہ کے گھر گھر میں اسلام کا اجالا پھیل گیا۔
ان کی زندگی کا عروج میدانِ احد میں اس وقت نظر آیا جب وہ مسلمانوں کے عظیم علمبردار کی حیثیت سے رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں ڈھال بن گئے۔ دشمن کے پے در پے حملوں نے ان کے دونوں ہاتھ قلم کر دیے، مگر ایمان کی حرارت کا یہ عالم تھا کہ کٹے ہوئے بازوؤں سے جھنڈے کو سینے سے لگا لیا اور زبان پر وہی کلمات جاری رہے کہ محمد ﷺ تو اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں۔ جب شہادت کے بعد ان کی تدفین کا وقت آیا تو تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ مکہ کا وہ سب سے خوشحال نوجوان ایک مختصر سی چادر میں لپٹا ہوا تھا، جس سے اگر سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانپنے پر سر برہنہ ہو جاتا؛ آخر کار نبی کریم ﷺ کے حکم پر ان کا سر ڈھانپا گیا اور پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی۔ یہ رقت آمیز انجام ہمیں یہ ابدی سبق دیتا ہے کہ انسانیت کی اصل معراج ظاہری زیب و زینت یا مال و زر میں نہیں، بلکہ اس لازوال ایمان اور عظیم مقصد کی خاطر دی جانے والی قربانی میں ہے جو انسان کو مٹی سے اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں سرخرو کر دیتی ہے۔

07/05/2026

ایک روایت میں آتا ہے کہ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ تین چاند ان کے حجرے میں اتر آئے ہیں۔ جب انہوں نے یہ خواب اپنے والد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا: اس کی تعبیر یہ ہے کہ روئے زمین کے سب سے افضل تین اشخاص تمہارے گھر میں دفن ہوں گے۔

چنانچہ سب سے پہلے محمد ﷺ اسی حجرۂ مبارک میں سپردِ خاک کیے گئے، پھر حضرت ابو بکر صدیقؓ، اور اس کے بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی وہیں مدفون ہوئے۔

حضرت عائشہؓ کی تمنا تھی کہ انہیں بھی نبی کریم ﷺ کے قرب میں دفن ہونے کی سعادت ملے، لیکن یہ شرف انہیں حاصل نہ ہو سکا اور آپؓ کو جنت البقیع، مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا۔

یا خیرَ من دُفِنَت بالقاعِ أعظُمُهُ
فطابَ من طِیبِهِنَّ القاعُ والأكمُ
نفسی الفداءُ لقبرٍ أنتَ ساكنُهُ
فیه العفافُ وفیه الجودُ والکرمُ
أنتَ الشفیعُ الذی تُرجی شفاعتُهُ
علی الصراطِ إذا ما زلَّتِ القدمُ
وصاحباكَ فلا أنساهما أبداً
منی السلامُ علیکم ما جری القلمُ

اے وہ ذات جن کے مبارک اعضاء زمین میں آرام فرما ہیں،
آپ کی خوشبو سے زمین اور ٹیلے بھی معطر ہو گئے۔

میری جان اس قبر پر قربان ہو جس میں آپ ﷺ جلوہ فرما ہیں،
جہاں پاکدامنی، سخاوت اور کرم جمع ہیں۔

آپ وہ شفیع ہیں جن کی شفاعت کی امید رکھی جاتی ہے،
پلِ صراط پر جب قدم لرز جائیں گے۔

اور آپ کے دونوں رفیق — ابو بکر و عمرؓ —
میں انہیں کبھی فراموش نہیں کروں گا، جب تک قلم چلتا رہے، ان پر میرا سلام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسولِ اکرم ﷺ، اہلِ بیت اطہار اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سچی محبت عطا فرمائے۔
صلی اللہ علیہ وسلم تسلیماً کثیراً۔

07/05/2026

قدیم مصر کی تاریخ میں ایک ایسے جاندار کا ذکر ملتا ہے جو محض ایک رینگنے والا جانور نہیں بلکہ صدیوں تک ہیبت، شاہی اقتدار اور حاکمیت کا استعارہ رہا ہے۔ یہ وہی پُراسرار سانپ ہے جس کا عکس فرعونوں کے تاج کی زینت بن کر ان کی حفاظت اور مطلق العنانیت کی گواہی دیتا تھا۔ دریائے نیل کی آغوش میں پنپنے والی اس قدیم تہذیب میں اسے ایک مقدس مقام حاصل تھا، جسے آج دنیا 'مصری کوبرا' اور سائنسی اصطلاح میں Naja haje کے نام سے جانتی ہے۔ یہ زہریلا سانپ بنیادی طور پر شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے خشک میدانوں، کھنڈرات اور جھاڑیوں میں مسکن بناتا ہے، جہاں اس کی لمبائی بعض اوقات ڈھائی میٹر سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ اس کی رنگت ماحول کی مناسبت سے بھورے، سیاہ یا سرخی مائل رنگوں میں بدلتی رہتی ہے، مگر اس کی اصل پہچان وہ خاص انداز ہے جب یہ خطرہ محسوس کرتے ہی اپنی گردن پھیلا کر ایک ہیبت ناک پھن کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا زہر اعصابی نظام کو براہِ راست نشانہ بناتا ہے، جو کسی بھی جاندار کو مفلوج کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے یہ کوبرا مصر کی سیاست اور عقائد میں اس قدر پیوست تھا کہ اسے دشمنوں کو نیست و نابود کرنے والی ایک الہامی طاقت سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ شاہی مقبروں سے لے کر قدیم مندروں کی دیواروں تک، ہر جگہ اس کی نقش و نگاری نمایاں ملتی ہے۔ اس سانپ کی داستان کا سب سے رقت آمیز پہلو ملکہ قلوپطرہ کی موت سے جڑا ہے، جس نے رومیوں کی غلامی پر موت کو ترجیح دی اور روایت کے مطابق اسی مقدس کوبرا سے خود کو ڈسوا کر اپنی زندگی کا چراغ گل کر لیا۔ آج جب ہم ان قصوں پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ عظیم الشان سلطنتیں اور ان کے رعب و دبدبے کے نشانات اب محض عجائب گھروں کی زینت بن چکے ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مادی طاقت، جاہ و حشم اور شاہی تاج سب عارضی ہیں؛ وقت کی بے رحم موجیں ہر غرور کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔ بقا صرف انسانیت، عاجزی اور ان نیک اعمال کو حاصل ہے جو تاریخ کے اوراق میں انسان کا نام زندہ رکھتے ہیں، ورنہ اقتدار کے بڑے بڑے بت تو وقت کی دھول میں کہیں کھو چکے ہیں۔

🌴ترکی 🇹🇷، شام 🇸🇾 اور سعودی عرب 🇸🇦  کو ملانے والے ریلوے ٹریک کا شام میں بحالی کا عملی آغاز ہو چکا ہے👇 جنگ سے متاثرہ پرانے...
05/05/2026

🌴ترکی 🇹🇷، شام 🇸🇾 اور سعودی عرب 🇸🇦 کو ملانے والے ریلوے ٹریک کا شام میں بحالی کا عملی آغاز ہو چکا ہے👇

جنگ سے متاثرہ پرانے ٹریکس کی مرمت، اہم لائنوں کی دوبارہ تعمیر اور ریلوے نیٹ ورک کو فعال کرنے پر کام جاری ہے 🛠️

خاص طور پر دمشق اور حلب کے ریلوے راستوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تاکہ یہ خطہ مستقبل میں اس بڑے ٹرانزٹ کوریڈور کا حصہ بن سکے 🌍

یہ منصوبہ ترکی سے شروع ہو کر شام کے راستے سعودی عرب تک ایک اہم زمینی رابطہ قائم کرنے کی طرف قدم ہےیہ صرف ریلوے نہیں۔ بلکہ تجارت، سفر اور خطے کے دوبارہ جڑنے کی ایک علامت ہے 🚉💪

حج اور عمرہ کرنے والے عازمین کے لیے بھی آمد و رفت کا ایک آسان ذریعہ ہوگا 🕋

اے شام 🇸🇾…
تیری سرزمین پھر سے امید اور بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے الحمدللہ…🤲

🇸🇦🇸🇾🇹🇷⚔️
#شام #ترکیہ

05/05/2026

بریکنگ نیوز 🚨
قومی خفیہ ایجنسی سے منسلک گروہ داع**ش خراسان نے شیخ ادریس کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

رپورٹس کے مطابق داع**ش خراسان، جسے اس وقت حکومتی خفیہ ایجنسیوں کے اثر و رسوخ اور کنٹرول میں قرار دیا جاتا ہے، ماضی میں بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔

مذکورہ گروہ نے آج خیبر پختونخوا میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے اور شیخ ادریس کی ش&ادت کا اعتراف کیا ہے۔

دوسری جانب خراسان میڈیا کو بعض باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حملے میں ملوث افراد دراصل قومی خفیہ ایجنسی سے وابستہ تھے، جنہوں نے شیخ ادریس کو نشانہ بنا کر شہید کیا۔

مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کے گروہ پاکستان کی حکومتی سرپرستی میں وقتاً فوقتاً دینی علما اور بااثر شخصیات کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

Address

Pakistan
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Meedan E Fikr posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share