almir collection

almir collection dresses for sale
english vocabulary
Islamic information
my videos
General knowledge

30/01/2024
07/01/2024

‏دو بچے اسلام آباد کری روڈ سے ملے ہے اس ٹائم پولیس سٹیشن کھنہ میں موجود ہیں ، ورثاء کی تلاش مطلوب ہے۔

07/01/2024

چندروز قبل ایک انکل جی کے گھر جاناہوا۔ میں انکے باغیچے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران بیل بجی۔ ایک بچہ آیا اس نے بیلچہ مانگا، انکل نے ایک چھوٹا سا الماری نما کمرہ کھولا، جس کے دروازے پر بڑا کرکے ”الماعون“ لکھا ہوا تھا۔

بیلچہ نکالا اور دے دیا۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سے نوٹ بک نکالی اسمیں تاریخ، وقت لکھ کر پھر بچے کا نام اور ولدیت لکھ لی۔ کچھ دیر ہی گزری تھی پھر بیل بجی، ایک محلے دار آۓ انہوں نے پانی والا پاٸپ مانگا، انکل نے کمرہ کھولا پاٸپ نکالا، دے دیا اور نوٹ بک پر اس صاحب کا نام لکھ لیا۔

میں یہ سارا منظر دیکھتارہا۔ پھر ہم ظہر کی نماز پڑھنے چلے گٸے۔ جب نماز پڑھ کر واپس آٸے تو ایک لڑکا کلہاڑی اور ”ترینگل“ لیے منتظر تھا۔ انکل نے دونوں چیزیں لیں، نوٹ بک نکالی، اس لڑکے کا نام تلاش کرکے ”وصول“ لکھا اور تاریخ ڈال دی۔
اب مجھ سے رہانہیں گیا۔ میں نے ان سے پوچھا ”آپ یہ چیزیں کراۓ پر دیتے ہیں“۔ وہ مسکراٸے اور بولے”یہ سب چیزیں سارے محلے والوں کو ضرورت پڑنے پر دے دیتاہوں۔ انکا کرایہ بالکل ہے لیکن یہ کرایہ اللہ کے کھاتے میں ہے،

کیا تم نے سورہ ماعون نہیں پڑھی۔ اللہ تعالیٰ کہتاہے
فَوَيۡلٞ لِّلۡمُصَلِّينَ کہ افسوس ہے بربادی ہے ان نمازیوں کیلیے جو وَيَمۡنَعُونَ ٱلۡمَاعُونَ عام استعمال کی چیزیں مانگنے پر دوسروں کو نہیں دیتے۔ تو بیٹاجب سے مجھے یہ آیت سمجھ آٸی ہے میں نے یہ سٹور ”الماعون“ بنادیاہے۔
اور ساری عام استعمال کی چیزیں، کلہاڑی،کدال،بیلچہ، کسی، ہتھوڑا، پاٸپ وغیرہ ساری چیزیں جو کہ پہلے سے میرے گھر موجود تھیں میں نے یہاں جمع کردی ہیں۔

اب محلے میں جس کو جو چیز چاہیے ہوتی ہے وہ آکر لے جاتاہے، نوٹ بک پر انکا نام اورتاریخ لکھ دیتاہوں۔ جب چیز واپس آجاۓ وصولی ڈال دیتاہوں۔۔“
میں خوشگوار حیرت سے انکی باتیں سن رہاتھا۔ انہوں نے چاۓ کاگھونٹ بھرا اور بولے” کچھ چیزیں میں نے خریدی ہیں، جبکہ بہت سی چیزیں تو محلے والے خود ہی مجھے دے گٸے کہ آپ انہیں ”الماعون“ میں رکھ لیں۔ جب ضرورت ہوگی لے جاٸیں گے، جب کسی اور کوضرورت ہوگی وہ لے جاٸیں گے“

احباب گرامی!
مجھے انکل کا یہ ”الماعون“ والا آٸیڈیا بہت پسند آیا۔ ہم بھی ہرروز ایک دوسرے سے چیزیں مانگتے ہیں لیکن اکثر ہم نہیں دیتے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مالک کریم نے نمازیوں کو تو خاص طور مخاطب کرکے لین دین کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ کرنے پر ”ویل“ یعنی جہنم کی آگ سے ڈرایا ہے۔
چنانچہ آپس میں استعمال کی چیزیں ضرور ایک دوسرے کودینی چاہیں۔
البتہ ایک قومی بیماری ”چیز واپس نہ کرنا“ کا علاج کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اسکا ایک فوری حل تو ”نوٹ بک“ ہے۔ تاکہ یاددہانی رہے۔یوں چیز واپس مانگ لی جاۓ۔
چیز مانگ کر لے جانے والے کو بھی عقل کرنی چاہیے بروقت واپس کرنی چاہیے ورنہ وعدہ خلافی،ایذاۓ مسلم جیسے گناہوں کا مرتکب ہوگا۔
عثمان غنی رانا

پس نوشت=
اگر چیز آپکے استعمال میں ہے۔ آپ نہیں دے سکتے تو کسی جھوٹے بہانے سے انکار مت فرماٸیں۔ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔

قندمکرر

03/01/2024

‏ہلدی اور دودھ

ہلدی اور دودھ میں قدرتی اینٹی بائیوٹک خصوصیات ہیں۔
ان دو قدرتی اجزاء کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنے سے بیماریوں اور انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔
ہلدی کو دودھ میں ملا کر پینا صحت کے متعدد مسائل کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
یہ خطرناک ماحولیاتی زہریلے مادوں اور نقصان دہ مائکروجنزموں سے لڑنے کا ایک مؤثر علاج ہے۔

ہلدی والے دودھ کے فائدے

1. سانس کی بیماری:
ہلدی کا دودھ ایک اینٹی مائکروبیل ہے جو بیکٹیریل انفیکشن 150 وائرل انفیکشنز پر حملہ کرتا ہے۔

یہ نظام تنفس سے متعلق بیماریوں کے علاج کے لیے مفید ہے، کیونکہ یہ مسالا آپ کے جسم کو گرم کرتا ہے اور پھیپھڑوں کی بھیڑ اور سینوس سے جلد آرام پہنچاتا ہے۔

یہ دمہ اور برونکائٹس کے علاج کے لیے بھی ایک موثر دوا ہے۔

2. کینسر:
یہ دودھ چھاتی، جلد، پھیپھڑوں، پروسٹیٹ اور بڑی آنت کے کینسر کی نشوونما کو روکتا اور روکتا ہے، کیونکہ اس میں سوزش کی خصوصیات ہیں۔

یہ کینسر کے خلیوں کو ڈی این اے کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے اور کیموتھراپی کے مضر اثرات کو کم کرتا ہے۔

3. سوزش مخالف:
ہلدی کا دودھ سوزش کش ہے، جو گٹھیا اور پیٹ کے السر کو روک سکتا ہے اور اس کی حفاظت کر سکتا ہے۔

اسے 'قدرتی اسپرین' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو سر درد، سوجن اور درد کو ٹھیک کر سکتی ہے۔

4. نزلہ اور کھانسی:
ہلدی کا دودھ اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات کی وجہ سے نزلہ اور کھانسی کا بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔
یہ گلے کی خراش، کھانسی اور زکام میں فوری آرام دیتا ہے۔

5. گٹھیا:
ہلدی کا دودھ گٹھیا کے علاج اور رماٹائیڈ آرتھرائیٹس کی وجہ سے سوجن کے علاج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ درد کو کم کرکے جوڑوں اور پٹھوں کو لچکدار بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

6. درد اور درد:
ہلدی کا سنہری دودھ درد اور درد سے بہترین آرام دیتا ہے۔
یہ جسم میں ریڑھ کی ہڈی اور جوڑوں کو بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔

7. اینٹی آکسیڈینٹ:
ہلدی والا دودھ اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے، جو فری ریڈیکلز سے لڑتا ہے۔
اس سے بہت سی بیماریوں کا علاج ہو سکتا ہے۔

8. خون صاف کرنے والا:
ہلدی والا دودھ ایک بہترین خون صاف کرنے والا اور صاف کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
یہ جسم میں خون کی گردش کو بحال اور بڑھا سکتا ہے۔
یہ خون کو پتلا کرنے والا بھی ہے جو لمفی نظام اور خون کی نالیوں کو تمام نجاستوں سے پاک کرتا ہے۔

9. لیور ڈیٹوکس جگر سمیت کو صاف کرنے کے لیے
ہلدی کا دودھ ایک قدرتی جگر کو detoxifier اور خون صاف کرنے والا ہے جو جگر کے کام کو بڑھاتا ہے۔
یہ جگر کو سہارا دیتا ہے اور لمفی نظام کو صاف کرتا ہے۔

10. ہڈیوں کی صحت:
ہلدی والا دودھ کیلشیم کا ایک اچھا ذریعہ ہے جو ہڈیوں کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ہلدی کا دودھ ہڈیوں کے گرنے اور آسٹیوپوروسس کو کم کرتا ہے۔

11. ہاضمہ کی صحت:
یہ ایک طاقتور جراثیم کش ہے جو آنتوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے اور پیٹ کے السر اور کولائٹس کا علاج کرتا ہے۔
یہ بہتر ہاضمہ صحت میں مدد کرتا ہے اور السر، اسہال اور بدہضمی کو روکتا ہے۔

12. ماہواری کے درد:
ہلدی کا دودھ حیرت انگیز کام کرتا ہے کیونکہ یہ اینٹی اسپاسموڈک ہے جو ماہواری کے درد اور درد کو کم کرتا ہے۔
حاملہ خواتین کو آسان ڈیلیوری، پیدائش کے بعد صحت یابی، بہتر دودھ پلانے اور بیضہ دانی کے تیزی سے سکڑنے کے لیے سنہری ہلدی والا دودھ لینا چاہیے۔

13. دھپڑ دھبے اور جلد کی سرخی:
قدیم ملکہیں نرم، کومل اور چمکدار جلد کے لیے ہلدی کے دودھ سے غسل کرتی تھیں۔
اسی طرح چمکدار جلد کے لیے ہلدی والا دودھ پیئے۔

ہلدی دودھ کو روئی کی گیند میں بھگو دیں؛ جلد کی لالی اور دھبوں والے دھبوں کو کم کرنے کے لیے متاثرہ جگہ پر 15 منٹ کے لیے لگائیں۔

اس سے جلد پہلے سے زیادہ چمکدار اور چمکدار ہو جائے گی۔

14. وزن میں کمی:
ہلدی والا دودھ غذائی چربی کو توڑنے میں مدد کرتا ہے۔
یہ وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

15. ایگزیما:
ایگزیما کے علاج کے لیے ایک گلاس ہلدی والا دودھ روزانہ پییں۔

16. بے خوابی:
ہلدی کا گرم دودھ ایک امینو ایسڈ، ٹرپٹوفن پیدا کرتا ہے۔ جو پرامن اور خوشگوار نیند لاتا ہے۔

02/01/2024

پڑھے لکھے مسافر حضرات اس تحرير کو ضرور پڑھیں...!!!

واش روم بہت ہی گندا تھا‘ فرش گیلا تھا‘ واش بیسن میں داغ تھے‘ ٹوائلٹ پیپر غائب تھا اور کموڈ میں غلاظت تھی‘ ہاتھ دھونے کے لیے صابن لگایا‘ ایک ٹونٹی کے نیچے ہاتھ رکھا ‘وہ نہیں چل رہی تھی‘ دوسری کے نیچے ہاتھ رکھا‘ وہ بھی ٹس سے مس نہ ہوئی‘ میں نے تیسری پر قسمت آزمائی وہ چل پڑی‘ ڈرائیر بھی نہیں چل رہا تھا اور ٹشو پیپر کا باکس بھی خالی تھا‘ باتھ روم کی صفائی کا لڑکا دوڑ کر آیا اور مجھے چند ٹشو پیپر پکڑا دیے...

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پوچھا ’’کیا آپ کافی پیتے ہو‘‘ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پھر ناں میں سر ہلا دیا‘ میں نے پوچھا ’’اور چائے‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلایا اور حیرت سے مجھے دیکھتا رہا‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ میرے ساتھ ایک کپ چائے پئیں گے‘‘ اس نے میری طرف دیکھا‘ اس کے بعد اپنی طرف دیکھا اور بولا ’’نہیں نہیں‘ آپ کا بہت بہت شکریہ‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’آپ کو میرے ساتھ چائے پینی پڑے گی‘‘ وہ گومگو کی حالت میں بولا ’’سر میں ڈیوٹی پر ہوں....

میں یہ کیسے کر سکتا ہوں‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’میں اگر آپ کو ڈیوٹی منیجر سے اجازت لے دوں تو کیا آپ میرے ساتھ چائے پی لیں گے‘‘ اس نے غیر یقینی حالت میں ہاں کر دی‘ میں اسے لے کر ایئرپورٹ کے ڈیوٹی منیجر کے کمرے میں چلا گیا‘ وہ بڑے تپاک سے ملے‘ میں نے ان سے اپنا مدعا بیان کیا تو وہ تھوڑی دیر تک مجھے اور سویپر لڑکے کو دیکھتے رہے اور پھر بولے ’’اس نے کوئی گڑ بڑ تو نہیں کی‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’کیا آپ گڑبڑ کے بعد لوگوں کو چائے پلاتے ہیں‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور لڑکے کو آدھ گھنٹے کے لیے چھٹی دے دی...
میں اسے ساتھ لے کر کافی شاپ پر گیا‘ اس کے لیے چائے اور اپنے لیے کافی آرڈر کی اور ہم میز پر بیٹھ گئے‘ وہ بے چارہ زندگی میں پہلی مرتبہ کافی شاپ کی کرسی پر بیٹھا تھا لہٰذا مجھے اس کے جسم میں ہلکا ہلکا ارتعاش صاف دکھائی دے رہا تھا‘ میں نے تھوڑی دیر گپ لگا کر اسے ایزی کیا اور پھر اس سے کہا ’’باتھ رومز کو صاف رکھنا آپ کی ذمے داری ہے...
آپ اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے کیوں نہیں کرتے؟ مسافروں کو آپ کے سامنے کتنی دقت ہورہی تھی‘‘ اس نے خوف سے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’کیا آپ میری شکایت لگانا چاہتے ہیں‘‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ’’میں نے اگر شکایت کرنی ہوتی تو میں آپ کو چائے کیوں پلاتا‘‘ اس نے اطمینان سے سانس لیا اور پھر کہا ’’آپ وعدہ کریں آپ میری باتیں ڈیوٹی منیجر کو نہیں بتائیں گے‘ میری جاب چلی جائے گی‘‘ میں نے وعدہ کر لیا‘ وہ مسکرا کر بولا ’’سر واش روم میں صفائی کے لیے ہم دو لوگ ہوتے ہیں‘ ہم دس گھنٹے مسلسل کام کرتے ہیں...
ہمارا سارا واشنگ مٹیریل روزانہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود واش رومز صاف نہیں ہوتے‘ ہم کیا کریں‘‘ میں نے پوچھا ’’کیاصفائی کے لیے لوگ کم ہیں‘‘ وہ بولا ’’ہرگز نہیں‘ دنیا میں ایک واش روم میں ایک بندہ ہوتا ہے جب کہ ہم دو دو ہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’پھر ایشو کیا ہے؟‘‘ وہ بولا ’’آپ لوگ‘‘ میں اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’سر یہ ایئرپورٹ ہے‘ یہاں خوش حال اور پڑھے لکھے لوگ آتے ہیں لیکن 99فیصد لوگوں کو واش روم استعمال کرنا نہیں آتا‘ یہ فلش نہیں کرتے اور اگر کرتے ہیں تو بٹن کو اتنی زور سے دبا دیتے ہیں کہ وہ خراب ہو جاتا ہے...

کموڈ کے اوپر چڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں جس سے کور ٹوٹ جاتے ہیں‘ فرش گیلا کرتے ہیں‘ واش بیسن میں ناک اور گلا صاف کرتے ہیں جس سے غلاظت جالی میں پھنس جاتی ہے‘ ڈرائیر کو دیر تک استعمال کرتے رہتے ہیں‘ ہاتھ صاف کرنے کے لیے دس دس ٹشو ضایع کر دیتے ہیں اور وضو خانے کے بجائے ٹوائلٹ اور واش بیسن میں وضو کرتے ہیں لہٰذا ایک فلائٹ کے بعد واش رومز استعمال کے قابل نہیں رہتے‘ ہم ابھی صفائی کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری فلائٹ آ جاتی ہے اور وہ مسافر گند ڈالنے کے ساتھ ساتھ ہمیں برا بھلا بھی کہنا شروع کر دیتے ہیں چناں چہ آپ خود بتائیں جب ایک گھنٹے میں دو سو لوگ واش رومز گندے کریں گے تو کیا ہم دو لوگ انھیں صاف کر سکیں گے...
آپ یقین کریں لوگ جیبوں میں مٹی کے ڈھیلے ڈال کر آتے ہیں اور کموڈ میں پھنسا کر چلے جاتے ہیں‘ یہ ٹشو پیپر کا پورا پورا رول کموڈ میں پھینک دیتے ہیں اور خواتین بچوں کے پیمپر کموڈ میں ڈال دیتی ہیں‘ ہم یہ گند کیسے صاف کر سکتے ہیں؟‘‘ میں حیرت سے اس کی کہانی سنتا رہا‘ وہ خاموش ہوا تو میں نے اس سے پوچھا ’’اس کا حل کیا ہے‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’آپ لوگ‘ آپ لوگ جب تک گند مچانا بند نہیں کریں گے‘ اس وقت تک صورت حال ٹھیک نہیں ہو گی‘ خواہ آپ واش رومز کی صفائی کے لیے دو دو ہزار بندے بھی رکھ لیں‘‘ میں نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا‘ اس کو تھپکی دی اور ایئرپورٹ سے باہر آ گیا...
میرے لیے زندگی کا یہ ایک نیا زاویہ تھا‘ پاکستان میں صرف ایک فیصد لوگ ہوائی سفر کے قابل ہیں اور یہ لوگ خوش حال اور پڑھے لکھے بھی ہیں لیکن آپ ان کی سیوک سینس اور لائف ٹریننگ دیکھ لیں‘ ان لوگوں کو بھی واش روم استعمال کرنا نہیں آتا‘ آپ جہازوں کے واش رومز کی حالت بھی دیکھتے ہوں گے...

یہ بھی کسی طرح قابل ستائش نہیں ہوتی لہٰذا آپ خود سوچیے جو لوگ جہاز کے اندر اور ایئرپورٹ پر اپنا گند صاف نہیں کرتے وہ لوگ شہروں‘ محلوں اور گھروں میں کیا کرتے ہوں گے اور دوسرا ملک میں جب ایک فیصد خوش حال لوگوں کی صورت حال یہ ہے تو باقی 99 فیصد لوگوں کا معیار کیا ہو گا؟ اب سوال یہ ہے ان لوگوں کو ٹھیک کرنا کس کی ذمے داری ہے؟ کیا یہ حکومت کی ڈیوٹی ہے؟ کیا صدر یا وزیراعظم آ کر انھیں ٹریننگ دیں گے؟ جی نہیں یہ معاشرے کی اجتماعی ڈیوٹی ہے‘ ہم لوگ جب تک ایک دوسرے کو ٹرینڈ نہیں کریں گے...
ہم سب لوگ جب تک اپنا بوجھ خود اٹھانا شروع نہیں کریں گے ملک کے مسئلے حل نہیں ہوں گے لہٰذا میری حکومت سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر دو کام کریں‘ پانچویں جماعت تک ایتھکس‘ ویلیوز اور سیوک سینس کو سلیبس کا حصہ بنا دیں‘ اسکولوں میں بچوں کو پڑھایا جانا چاہیے پاکی ناپاکی کے مسائل کلمے نماز صبح وشام کی دعائیں اور سب دعائیں جو روزانہ پڑھی جائیں یاد کروائے جائیں گھروں میں ماں کا کام میں ہاتھ بانٹنا چاہیۓ اس کے کیا فائدے ہیں اور واش روم کیا ہوتے ہیں‘ یہ کیسے استعمال کیے جاتے ہیں اور ہر شخص کو استعمال کے بعد ان کی صفائی کرنی چاہیے‘ ہاتھ دھونا‘ ہاتھ خشک کرنا اور ایک دوسرے کو سلام کرنا بھی کیوں ضروری ہے اور دوسروں سے ہاتھ کیسے ملانا چاہیے اور ملاقات کے دوران کس شخص سے کتنے فاصلے پر کھڑا ہونا چاہیے؟یہ تمام اصول بچوں کو اسکول میں سکھانے چاہییں...
میں نے تین ماہ قبل ڈاکٹروں کو ایک سیشن دیا تھا‘ میں نے انھیں بتایا ہم جب کسی شخص سے ملنے جاتے ہیں تو ہم سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ اس شخص نے کرنا ہوتا ہے‘ وہ اگر ہاتھ ملانے میں پہل کرتا ہے تو ہمیں اس کی طرف ہاتھ بڑھا نا چاہیے ورنہ صرف منہ سے السلام و علیکم کافی ہوتا ہے‘ ہم ہر شخص کی طرف ہاتھ بڑھا دیتے ہیں یا دوسروں سے گلے ملنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں یہ بدتمیزی ہوتی ہے‘ آپ یقین کریں ہال میں موجود تمام لوگوں کا کہنا تھا ہمیں زندگی میں یہ اصول کسی نے بھی نہیں بتایا...!!!
۔منقول:

15/12/2023

*🥥 ناریل کا گرم پانی*

برائے مہربانی آگے ضرور بھیجیں:

شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر عباس حسین کاظمی نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ میسج حاصل کرنے والا ہر شخص دوسروں کو بھیج دے تو یقیناً کم از کم ایک جان تو بچائی جاسکتی ھے ...
میں اپنے حصّے کا کام کر چکا ہوں، امید ہے آپ بھی اپنے حصّے کا کام کریں گے۔ . شکریہ!

*گرم ناریل کا پانی* آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔
*اسے دوبارہ دیکھیں* ،
پھر دوسروں کو بتائیں،

*ناریل کا گرم پانی*
~ صرف کینسر کے خلیوں کو مارتا ہے!

ایک کپ میں 3 سے 4 باریک ناریل کے ٹکڑے فلیکس (flakes)کاٹ لیں، گرم پانی میں ڈالیں،اور جوش آنے دیں
یہ *"الکلائن واٹر"* (Alkaline water)بن جائے گا، ہر روز پیئیں، یہ ہر کسی کے لیے بھی اچھا ہے۔ روز بنائیں یا کچھ مقدار میں بناکر رکھ لیں اور روزآنہ ایک کپ گرم کرکے پی لیا کریں۔

*گرم ناریل کا پانی* ایک کینسر مخالف مادہ خارج کرتا ہے، جو کہ طبی میدان میں کینسر کے موثر علاج میں جدید ترین پیش رفت ہے۔

گرم ناریل کا رس *سسٹس* (Cysts)اور *ٹیومر* (tumor)پر اثر کرتا ہے۔ تمام قسم کے کینسر کے علاج کے لیے بھی ثابت ہے۔

ناریل کے عرق کے ساتھ اس قسم کا علاج صرف مہلک خلیات (cells)کو تباہ کرتا ہے، یہ صحت مند خلیات کو متاثر نہیں کرتا۔

اس کے علاوہ ناریل کے جوس میں موجود امینو ایسڈ (Amino acid)اور ناریل پولی فینول(polyphenol) ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کر سکتے ہیں،
گہرے رگوں کے تھرومبوسس (thrombosis)کو مؤثر طریقے سے روک سکتے ہیں، خون کی گردش کو ایڈجسٹ (adjust)کر سکتے ہیں اور خون کے جمنے (blood clotting)کو کم کر سکتے ہیں۔

*پڑھنے کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
دوسروں کو، خاندان والوں کو،
دوستوں کو ضرور بتائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی صحت کا خود خیال رکھیں۔

11/12/2023

ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرے میں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا:

٭٭٭ گزشتہ سال میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہو نے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔

٭٭٭ اسی سال ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔

٭٭٭ اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔

٭٭٭ اسی سال ہی میرا بیٹا میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔

صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛ آہ، یہ کیا ہی برا سال تھا!!!

مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں میں گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال پر چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر بعد واپس کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا تھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ دیکھا تو اس پر لکھا تھا

٭٭٭ گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا۔

٭٭٭ میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنا وقت کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔

٭٭٭ اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

٭٭٭ اسی سال اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔

آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ :
"واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔"

ملاحظہ کیجیئے: بالکل وہی حواداث اور بالکل وہی احوال لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔۔۔۔

بالکل اسی طرح اگر، جو کچھ ہو گزرا ہے، اسے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے جو اس کے برعکس ہوتا تو، ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے۔

اگر ہم بظاہرکچھ کھو بیٹھے اسے مثبت زاویے سے دیکھیں تو ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ بہتر نظر آنا شروع ہو جائے گا

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے

*وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾*

"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے"
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. سوچ بدلنے سے تبدیلی اے گی
Copied

29/10/2023

*غموں کو سر پر سوار نا کریں*، یہ تو چند کالے بادلوں کے ٹُکڑے ہیں بس، کبھی نا کبھی چھٹ ہی جائیں گے...!!

ان شــــــآء اللــــــــــہ...!!
بس تھوڑا سا اور انتظار...!!

"فان مع العسر یسرا"
"إن مع العسر يسرا".....

یہ اپکا حوصلہ بڑھائیں گے

ان شاء اللہ*
♥️♥️

29/10/2023

ایک استاد نے ہر طالب علم کو ایک غبارہ دیا، جسے اسے پھولانا تھا، اس پر اپنا نام لکھنا تھا، اور اسے صحن میں پھینکنا تھا۔ استاد نے پھر تمام غباروں کو ملا دیا۔ اس کے بعد طلباء کو اپنا غبارہ تلاش کرنے کے لیے 5 منٹ کا وقت دیا گیا۔ کافی تلاش کے باوجود ان کا غبارہ کسی کو نہیں ملا۔

اس موقع پر، استاد نے طلباء سے کہا کہ وہ پہلا غبارہ لیں جو انہیں ملے اور اسے اس شخص کے حوالے کریں جس کا نام اس پر لکھا ہوا ہے۔ 5 منٹ کے اندر، سب کے پاس اپنا اپنا غبارہ تھا۔

استاد نے طالب علموں سے کہا: "یہ غبارے خوشی کی طرح ہیں، اگر ہر کوئی اپنی خوشی کی تلاش میں ہے تو ہمیں یہ کبھی نہیں ملیں گے۔ لیکن اگر ہم دوسروں کی خوشیوں کا خیال رکھیں گے تو ہم اپنی بھی تلاش کر لیں گے۔"

آپ کا دن خوشیوں سے بھرا رہے
صبح بخیر خوش رہیں آباد رہیں
اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین 🍂🍂

28/10/2023

*_اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ🌹_*

*ہوائیں موسم کا اور دُعائیں مصیبتوں کا رُخ بدل دیتی ہیں اس لئے دُعائیں مانگتے اور دیتے رہا کریں*

*میری دُعا ہے کہ پاک پروردگار ہم سب کو دُنیا اور آخرت میں وُه مَرتبہ اور عِزّت عطاء فرماۓ جو ہمارے تصّور سے بهی بالاتر هو*

*آمین ثم آمین*🤲🏻

25/10/2023

نومبر کی ایک سرد رات میں گیارہ بجے دروازے پر دستک ہوئی۔ ماسٹر اکبر علی نے جا کر دروازہ کھولا تو نقاب پوش لڑکی دروازے سے اندر گیراج میں آ کھڑی ہوئی۔ بولی سر پانچ سو روپے مل جائیں گے؟ ماسٹر صاحب نے پوچھا آپ ہیں کون بتائیں تو سہی؟ اس لڑکی نے چہرے سے نقاب ہٹایا اور بولی میں آپ کی شاگرد آسیہ رحمت ہوں۔ بچے صبح سے بھوکے ہیں۔ چھوٹا بچہ تو بھوک سے نڈھال ہو چکا رو رہا ہے کہ دودھ پینا ہے۔ ماسٹر صاحب نے اسے ایک ہزار دینا چاہا مگر اس نے پانچ سو روپیہ ہی لیا اور چلی گئی۔ اڈے پر جا کر ایک کلو دودھ لیا، ہوٹل سے دال کی ایک پلیٹ اور دس روٹیاں لیکر گھر آگئی۔

آسیہ رحمت ایک ایسی لڑکی تھی جو صبح، دوپہر اور شام میں سوٹ بدل کر پہنا کرتی تھی۔ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئی۔ باپ منڈی میں غلے کا تاجر تھا۔ شادی بھی چچا کے گھر ہم پلہ گھرانے میں ہوئی۔ دس سال گزر گئے مگر لاکھ کوشش تعویز دم دوائیوں کے بعد بھی اولاد نہ ہو سکی۔ ایک رات آسیہ نے تہجد پڑھی اور دعا کی کہ یا اللہ میری قسمت میں لکھا رزق کم کر کے مجھے غربت دے دو۔ اس کے بدلے مجھے اولاد چاہیے۔ میں ہر صورت ماں بننا چاہتی ہوں۔ مجھے رزق اور مال و دولت کی حرص نہیں ہے۔

اگلی صبح خاوند کو دل کا دورہ پڑا اور دوکان پر وفات ہوگئی۔ سارا کاروبار تین بھائیوں نے سمیٹ کر بیوہ کو یہ کہہ دیا کہ وہ مقروض تھا۔ آسیہ کی شادی اسکے ایک نکھٹو اور جواری دیور سے کر دی گئی۔ شادی کے بعد وہ نشہ بھی کرنے لگا۔ اللہ نے سات سال میں تین بیٹے اور ایک بیٹی دی۔ خاوند اب نشے کی اس حالت میں ہے کہ بازوؤں پر بلیڈ سے کٹ لگا کر ان کے اوپر کوئی پاؤڈر ڈالتا ہے۔ ٹیکے لگاتا ہے۔ گھر بیچ کر جوے میں ہار چکا ہے۔ کرائے کا مکان ہے جس کا کرایہ آسیہ لوگوں کے گھروں میں کام کرکے ادا کرتی ہے۔

ہمارے حق میں کیا بہتر ہے وہ ہم سے زیادہ ہمارا خدا جانتا ہے۔ جب ہم تقدیر کو بدل دینے کی دعا کرتے ہیں۔ تو وہ دعا اگر قبول ہو جائے تو حالات آسیہ جیسے بھی ہو سکتے ہیں۔ ایک نعمت سے محرومی نجانے کتنی محرومیوں اور آزمائشوں سے ہمیں بچا رہی ہوتی۔ اور اس ایک چیز کے حصول میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر خدا کے لکھے کو بدلنے کا اس سے ہی سوال کر رہے ہوتے ہیں۔

ایک سپیشل بچے کی ماں چاہتی تھی کہ اس کا بچہ ٹھیک ہو جائے یا مر جائے۔ اس نے خدا سے یہ دن رات یہ دعا کرنا شروع کر دی۔ بچہ وفات پا گیا۔ خاوند نے دوسری شادی کرکے اسے طلاق دے دی۔ کہ اس سے اگلا بچہ بھی معذور ہی ہوگا۔ جب تک وہ بچہ زندہ تھا اس کا خاوند بیوی سے ایسے محبت کرتا تھا جیسے محبت کی داستانوں میں مجنوں اور رانجھے کا کردار ہو۔ جس بچے کو وہ آزمائش سمجھتی تھی اس نے ہی تو ایک بڑی آزمائش روک رکھی تھی۔

کبھی بھی ازمائش یا مشکل منہ سے نہ مانگیں۔ ایک خاص نعمت کے لیے میسر نعمتوں کے چھن جانے کی دعا نہ کریں۔ آپ وہ نہیں جانتے جسے "وہ ذات" جانتی ہے۔ جو یہ سب کچھ کنٹرول کر رہی ہے۔ اور اسکی قدرت کا ایک خاص نظام ہے جسے غور و فکر کرنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔

خطیب احمد
copied

Suratul falaq 113Tafseer by taqi usmaniApplication Islam 360
24/10/2023

Suratul falaq 113
Tafseer by taqi usmani
Application Islam 360

Address

Abbottabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when almir collection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category