History of Niazai Tribes

History of Niazai Tribes Need to create this page was to address the challenges faced to our youth and to keep the Norms,culture and history of our Niazai tribe protected.

29/05/2026

انتہائی افسوس ناک خبر
مرحوم گل امیر خان شہباز خیل کے پوتے اینڈ آصف امیر خان شہباز خیل کے چھوٹے بیٹے کو فائر لگنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں سب بھائیوں سے دعا کی اپیل ہے

29/05/2026

عید کی خوشی اپنی جگہ، مگر پاوڑوں کی قرعہ اندازی میں جیتنے کا مزہ اپنی مثال آپ ہے۔

History of Niazai Tribes

یہ تھا وہ جوان :ایک سال قبل رینجرز اہلکار کے شانہ بشانہ انڈین ڈرون کو نشانہ بننے والا آصف خان نیازی منظر عام پر آگیا ۔۔۔...
28/05/2026

یہ تھا وہ جوان :ایک سال قبل رینجرز اہلکار کے شانہ بشانہ انڈین ڈرون کو نشانہ بننے والا آصف خان نیازی منظر عام پر آگیا ۔۔۔ میرا تعلق نورنگا ضلع میانوالی سے ہے ، اس روز اللہ نے سعادت دی کہ اپنے ملک کے لیے ایک چھوٹا سا کام کروں ۔ ہم ڈرونز کو آتے جاتے دیکھنے کے لیے لاہور کے قریب ایک روڈ پر کھڑے تھے ۔ وہاں رینجرز اور پولیس والے بھی تھے ۔ انہی میں میرا ایک دوست بھی تھا اور میں اسکے ساتھ کھڑا تھا ، جب ایک ڈرون اس سے کافی دیر بچا رہا تو میں نے اسے کہا رایفل مجھے دو تمہارا نشانہ نہیں لگ رہا ۔ اس نے جی تھری مجھے پکڑا دی ۔میرا نشانہ زبردست تھا لیکن ٹارگٹ مشکل تھا کیونکہ مسلسل اور تیزرفتاری سے حرکت کررہا تھا لیکن الحمد للہ میں نے 6 فا۔ئیر کیے جو ڈرون کے پاس سے گزرے اور 7 واں اسکے درمیان میں لگا اور یہ نیچے گرنے لگا ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ ویڈیو بن رہی ہے ۔۔ میں ایک پاکستانی اور نیازی ہونے کے ناطے اپنے ملک اور اداروں کے ساتھ ہوں اگر جان دینی پڑی تو بھی دریغ نہیں کرونگا ۔۔۔۔

28/05/2026
28/05/2026

میاںوالی شہر میں آج پھر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ تلہ گنگ روڈ پر گرڈ اسٹیشن کے نزدیک فائرنگ کے نتیجے میں حسن آرائیں نامی ایک شخص بھانجے کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا، اور تازہ اطلاعات کے مطابق وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ ایک اور گھر اُجڑ گیا، ایک اور ماں کا لال چھن گیا، ایک اور خاندان غم میں ڈوب گیا۔

یہ وہی میاںوالی ہے جو کبھی غیرت، عزت، رواداری اور بہادری کی پہچان سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ دھرتی تھی جہاں ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور بچوں کی عزت کی جاتی تھی۔ اگر دشمنی بھی ہوتی تھی تو اس میں کچھ اصول، کچھ غیرت اور کچھ انسانیت باقی ہوتی تھی۔ مگر آج یہ کون سا رواج چل نکلا ہے کہ بےگناہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کمزوروں کا خون بہایا جا رہا ہے؟ اور شہر میں نہ غیرت باقی رہی، نہ برداشت، نہ کسی کو انسانیت کا احساس رہا۔

آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟
کیوں معمولی باتوں پر انسان کی جان لے لینا آسان ہو گیا ہے؟
کیوں ہمارے دلوں سے رحم، خوفِ خدا اور برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے؟

خدا کے لیے اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ آپس کی لڑائیاں، دشمنیاں اور جاہلانہ رسمیں ختم کریں۔ یہ جدید دور ہے، مگر افسوس ہمارے رویے آج بھی جہالت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ یاد رکھیں، دنیا کی عدالت سے بچ بھی گئے تو اللہ کی عدالت سے نہیں بچ سکیں گے۔ وہاں ہر خون کا حساب دینا ہوگا، ہر ظلم کا جواب دینا ہوگا۔

ہم رسولِ اکرم ﷺ کے امتی ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر ان کی تعلیمات کو بھول چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:

"جس نے ایک بےگناہ انسان کو قتل کیا، گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔"

ایک انسان کا قتل صرف ایک جان کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ کئی زندگیاں بکھر جاتی ہیں۔ بچے اپنے والد سے محروم ہو جاتے ہیں، مائیں اپنے بیٹوں سے جدا ہو جاتی ہیں، بہنوں کے سہارے چھن جاتے ہیں، اور خاندان عمر بھر کے غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

آئیں، اپنے اندر برداشت پیدا کریں۔ غصے پر قابو پانا سیکھیں۔ نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دیں۔ اس شہر کو دوبارہ امن، عزت اور انسانیت کا گہوارہ بنائیں۔ کیونکہ کل اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، اور اُس دن کا امتحان بہت سخت ہے۔

28/05/2026

آج #میانوالی میں سعید ارائیں صاحب کو اُن کے معصوم بیٹے کے سامنے بےدردی سے ق ت ل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پوری انسانیت کے دل پر زخم ہے۔ ایسے سفاکانہ واقعات معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےحسی اور قانون کی کمزوری کی عکاسی کرتے ہیں۔

اسلام نے انسانی جان کی حرمت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"
(صحیح بخاری)

ایک اور مقام پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"دنیا کا فنا ہو جانا اللہ کے نزدیک ایک بےگناہ انسان کے قتل سے کم تر ہے۔"
(سنن نسائی)

قرآنِ پاک میں بھی ارشاد ہے:
"جس نے ایک بےگناہ انسان کو قتل کیا، گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔"
(سورۃ المائدہ: 32)

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری اور سخت کارروائی کریں، مجرموں کو نشانِ عبرت بنایا جائے، اور معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم کی جائے تاکہ آئندہ کسی معصوم جان کو اس طرح ظلم کا نشانہ نہ بننا پڑے۔

ہم سب کو بھی بطور قوم اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ تشدد، دشمنی، اسلحے کی نمائش اور جرائم کو کسی صورت سپورٹ نہ کریں۔ خاموش رہنا بھی بعض اوقات ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

اپنے گھروں، محلوں اور بچوں میں برداشت، اخلاق، صبر اور انسانیت کے اصول عام کریں۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں ہر انسان کی جان، عزت اور تحفظ یقینی ہو۔

اللہ تعالیٰ مرحوم حسن ارائیں صاحب کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
History of Niazai Tribes

28/05/2026

🇵🇰💪🚀
پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے ؟

ان دونوں نے بھاگ کر شادی کی، ان کا یہ عمل غیر ذمہ دارانہ بھی کہا جا سکتا ہے اور بے وقوفانہ بھیلیکن جو کچھ ان کے وارثوں ن...
27/05/2026

ان دونوں نے بھاگ کر شادی کی، ان کا یہ عمل غیر ذمہ دارانہ بھی کہا جا سکتا ہے اور بے وقوفانہ بھی

لیکن جو کچھ ان کے وارثوں نے کِیا، اُسے سراسر جاہلانہ کہا جائے گا

ظلم کو ظلم کہیں، غلط کو غلط،
قتــل کا کوئی جواز نہیں ہوتا

 #ملگرے
27/05/2026

#ملگرے

Address

Islamabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when History of Niazai Tribes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category