Ghizerians

Ghizerians We are promoting Ghizer GB, Valley of Lakes, Heaven on Earth.

10/05/2026

Wonderfully played Dr sab.

سینئر سیاسی رہنما ڈاکٹر علی مدد شیر
فل ٹاس پہ چھکا۔

سیاسی شخصیت جو اس معاشرے کی سیاسی نبض پہ ہاتھ رکھنا جانتا ہے۔

10/05/2026

غذر حلقہ 01 کی سیاست میں مرزہمہ کھجھٹ کی رول اہم ہو سکتا ہے۔ مگر آج کی عوام کو جن بھوت قابو کرنا آتا ہے۔

09/05/2026

اپر غذر کے عوام اپنی محرومیوں کا بدلہ لے سکتے ہیں بشرطیکہ سارے سیاسی نمائندے خود کو بڑے لیڈر ماننے سے تھوڑا پیچھے ہٹ جائیں۔
یہ گیم منیجمنٹ کی بات ہے اگر منیجمنٹ ہوگئی تو اگلے پانچ سال تک ہیڈ کوارٹر کا رستہ تکیں رہ جائیں گے مس مینجمنٹ ان کے لئے سیاسی جیت ہوسکتی ہے۔
یہاں منیجمنٹ نہیں مس مینجمنٹ کی بہت ضروری ہے۔

25/04/2026

سپریم لیڈر نواز خان ناجی کی سیاست کو پسند نہ کرنے والے مخالف کرنے والے اور نون، پی، ق، ایس، ٹی، یو، وی کی تنظیم میں چھپے ڈرپوک لوگوں کو کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ نذیر احمد ایڈوکیٹ اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کی سیاست پر سوال اٹھائے۔
نذیر احمد پر اس موقف پر بات کرنے سے پہلے اپنا قبلہ درست کرے۔
اس کی طرز سیاست پر ہزار ہا بات ہوسکتی ہے لیکن خود کو اسلام آباد نواز پیلے نیلے رنگوں میں چھپا کر اپنے کالے کرتوتوں میں کسی کو گندہ نہیں کرسکتے۔
اس لئے خاموش رہے اور اپنی طرز سیاست پر غور کرے۔

23/04/2026

:نہیں، نہیں! یہ بالکل بھی نہیں ہو سکتا کہ میں وقتی مشکلات کو دیکھ کر اپنی سوچ پر پہرے لگا دوں۔ نہیں، یہ ممکن نہیں کہ میں وقت کے فرعونوں کے تابع ہو کر اپنی سوچ کو غلام بنا لوں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ میں مشکلات کے سامنے اپنے ضمیر کا سودا کر لوں۔

آخر کیا ہوتا ہے اگر اس جہاں میں مشکلات آتی ہیں؟ کون سا انسان ہے جو مشکلوں سے خالی ہے؟ اس خطے میں کون ہے جو سکون کی دکان کھول کر بیٹھا ہو کہ جب چاہو سکون خرید لو؟

میں وقت کے ظالموں کے سامنے سر نہیں جھکا سکتا۔ میں کمزور سہی، میری زبان پر تالے سہی، میں مجبوریوں کے ہاتھوں خاموش سہی، میں ضرورتوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا سہی، مگر میرا ضمیر زندہ ہے۔ میں مردہ نہیں ہوں۔ میرا ضمیر آج بھی چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔

قابضین اور غاصبین میرے وجود کو جکڑ رہے ہیں، میری سچائی کو قید کر رہے ہیں، میری زبان پر تالے لگا رہے ہیں، میری سوچ کو گرفتار کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جو اچھا ہے وہ میرے لیے نہیں چھوڑا گیا، اور جو برا ہے اس پر میں لب کشائی نہیں کرتا۔ میرے اپنے ہی میری لب کشائی سے خوف زدہ رہتے ہیں، میرے ضمیر کو جکڑ کر میری زبان پر تالے لگا دیتے ہیں اور میری قلم کو توڑ دیتے ہیں۔

مگر میرا ضمیر مرا نہیں ہے۔ میرے لب آزاد ہیں، میرا دل دھڑکتا ہے، میری سوچ زندہ ہے۔ اگرچہ میں وقت کے دائرے میں قید ہوں، مگر میرے لبوں پر مسکراہٹ میرے حوصلے کے گیت گاتی ہے۔ ہوش میں رہنا ہی میری جدوجہد ہے۔

میری آواز تمہارے حلق سے نکلتی ہے۔ میری سوچ کو زبان تمہاری وجہ سے ملتی ہے۔ میری جدوجہد کا مظہر تم ہو۔ میری خواہش کا محور تم ہو۔ میرے محکوم خوابوں کی تم ہی تعبیر ہو، میرے الفاظ کی تم زبان ہو۔

جب تم درد میں ہوتے ہو تو لگتا ہے جیسے میں بول رہا ہوں۔ جب تم غصے میں ہوتے ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ میرا درد بیان کر رہے ہو۔ جب ساری مشینری ایک طرف کھڑی ہوتی ہے تو تم اکیلے طوفان سے لڑ جاتے ہو۔ تم کہتے ہو کہ میرے نوجوان یہاں کھڑے ہیں، میرے کارکن میری صورت میں ان گنت جوانوں کی طرح موجود ہیں۔ یہی جذبہ، یہی اطمینان اور یہی بھروسہ مجھے ٹوٹنے نہیں دیتا۔

ہم جانتے ہیں کہ وقت کی بے رحم دھاروں میں تمہیں ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی رہی ہے۔ تمہارے خلاف ٹولیاں صف آراء ہیں، تمہارے خلاف زمانے کی سنگینیاں ہیں۔ تمہیں ستایا جاتا ہے، تمہیں تنگ کیا جاتا ہے، تمہاری سوچ پر پہرے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر وقت کی بے رحم موجیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

وقت کی فرعونیت کو ختم ہونا ہے۔ بے مقصد شور اور شرارتوں کو ختم ہونا ہے۔ طوفانوں کے گزرنے کے بعد پھر وہی کھڑا رہے گا جس کی جڑیں مضبوط ہوں گی۔

میرے لفظوں کی تم بولی ہو، میرے خوابوں کی تم تعبیر ہو۔ تم میرے سکون کا پل ہو، میرے جذبوں کی امین ہو، میری سوچ کا مظہر ہو۔

میں کیوں کسی اور کے در پر سر جھکاؤں؟ کیوں کسی اور کو حاکم مانوں، جب میرا سر اپنے ہی در پر نہیں جھکتا؟ وقتی حالات سے گھبرا کر کیوں میں ذاتی فائدے گنواؤں؟ کیوں بڑی تمناؤں کو چھوٹی آرزوؤں پر قربان کر دوں؟

میرے لب آزاد ہیں۔ میری کشش میں وہ بات ہے کہ جب تم بولتے ہو تو مجھے سکون ملتا ہے۔ جب تم للکارتے ہو تو میں زندہ ہو جاتا ہوں۔ جب تم مکا لہراتے ہو تو سارا جہاں جاگ اٹھتا ہے۔ تمہارے ایک اشارے پر برج الٹ جاتے ہیں، تمہاری ایک تقریر پر جیلوں کی زنجیریں ٹوٹتی ہیں، تمہارے ایک نعرے پر گلگت بلتستان کھڑا ہو جاتا ہے۔

میں اتنا کم ظرف نہیں کہ تمہیں ایک سیکشن کے ٹھیکے پر تول دوں یا ایک فیصلے کے غضب پر تمہیں اکیلا چھوڑ دوں، تمہیں منجدھار میں تنہا چھوڑ دوں۔

ایسا نہیں ہو سکتا۔ تم آواز ہو، تم میرا احساس ہو۔ تم وہ لمحہ ہو جو سکون دیتا ہے، جو میری بے چینی کو آرام دیتا ہے۔ میری سوچ تمہاری دی ہوئی ہے۔ میں اپنی سوچ کو راستے میں چھوڑ کر بھاگنے والا نہیں۔ میں کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔

بس تم میری آواز ہو۔ اسے کمزور ہونے مت دینا، اسے گم ہونے مت دینا۔ کمزور تم نہیں، کمزور میں تھا جو تمہارے ساتھ کھڑا نہیں رہ سکا۔ میں مجبور تھا اپنی نوکری سے، اپنی دکان سے، بچوں کی فیسوں سے، گلی محلوں اور تھانوں سے، غاصبوں سے۔ اسی لیے تم اکیلے ہو گئے۔

مگر اب نہیں۔ مجھے وہ گرجدار تقریر پھر چاہیے، وہ اسمبلی کا ہنگامہ پھر چاہیے، وہ گن گرج پھر چاہیے۔

میں مردوں کی اس بستی میں ایک زندہ انسان کے ساتھ ہوں۔
میں تمہارے ساتھ ہوں، ہاں تمہارے ساتھ ہوں۔
فقط جان نثار ناجی۔

03/03/2026

اسکردو کے علماء نے تمام اخباری نمائندوں یوٹیوبرز ٹک ٹوکرز، کاروباری حضرات سب کا شکریہ ادا کیا طلباء تنظیموں کا بھی اور اتحاد اور اتفاق کا بھی۔
جن جوانوں نے جانیں دی ان کا ذمہ دار کون ہے یہ نہیں بتایا؟
ان کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی تھی یہ نہیں بتایا؟
انہیں کس ننے احتجاج کے لئے بلایا تھا یہ نہیں بتایا؟
انہیں کس نے جلاو گھیراو کے لئے آگے کردیا اور فورسز کے سامنے لا کھڑا کردیا یہ نہیں بتایا۔
کس نے کہا دفاتر جلاو ذمہ دار کون یہ نہیں بتایا؟
یہ اقدام ٹھیک نہیں ہوا یہ نہیں بتایا؟
لوگوں کی جانیں گئی ٹھیک نہیں ہوا یہ نہیں بتایا؟
سرکاری کے ساتھ این جی اوز کی پوری پراپرٹی جلائی جبکہ اہل تشیع کے این جی اوز پر پتھر بھی نہیں گرایا یہ کس نے سیکھایا یہ نہیں بتایا؟

مولانا تمہاری رہبری کا سوال ہے۔

03/03/2026

مولانا حاضرامام علیہ السلام شاہ رحیم الحسینی سے منسوب کرکے فیس بک میں بیانات چلا کر اگر پھر سے بلتستان میں AKRSP ڈویژنل آفس کی تزئین و آرائش کرکے بلتیوں کے لئے دوبارہ کھول کر امامتی فنڈز کو لٹانے کی کوشش کی گئی تو اسماعیلی یوتھ کی طرف سے ایسی مزاحمت ہوگی کہ اداروں کے اندر کام کرنے والے سرکاری ٹٹپُنجیئے اپنی سرکاری نوکری کو بھی بچانا بھول جائیں گے۔
اور سرکار کو بھی اتنا پریشرائز کیا جائے گا کہ وہ ان اداروں کے اندر کام کرنے والوں تمام ملازمین کی فہرستیں بناکر انہیں ان کی نوکریوں سے فارغ کرنے تک کی نوبت آجائے گی۔
اب کے بار یوتھ وہ کردیکھائے گی جو جماعتی اداروں کے اندر کام کرنے والے سرکاری و نیم سرکاری ملازمین نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔
ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں ابھی سے ہی اور باور کراتے ہیں کہ بلتستان سے ڈویژنل آفس کو ختم کر کے ہنزہ یا غذر میں قائم کیا جائے گا بصورت دیگر تمام آپریشنز کو بند کردیا جائے گا۔ اور ضلعی آفیسز کے اندر سے نان اسماعیلی کمیونٹیز کے ممبران کو ڈویژنل آفس گلگت ٹرانسفر کرکے صرف اسماعیلی فرقے کو لوگوں کو تعینات کیا جائے۔
اگر یہ فرقہ پرستی ہے انتہا پسندی ہے تو وہ سہی۔
اب کی بار سرکاری کلرکوں کو جماعت کے اداروں کے ساتھ کھلواڑ کرنے نہیں دیا جائے گا۔

03/03/2026

امامِ علیہ السلام شاہ رحیم الحسینی کا کوئی بھی فیس بُکی بیان نہیں آتا۔ وہ اسماعیلی فرقے میں ایک تعلیقۂ مبارک کے طور پر جاری ہوتا ہے۔ تعلیقۂ مبارک مولانا حاضر امام کی طرف سے خصوصی جماعت کے لیے ہوتا ہے۔ ایسا کوئی بھی فرمان جو مذہب، رواداری اور خیر سگالی سے متعلق ہو، وہ اسماعیلی سوشل سائٹس پر بھی پوسٹ کیا جاتا ہے۔ جسے جماعت خانوں میں جماعت کو سنانے سے پہلے باقاعدہ جھنڈا نکالا جاتا ہے، جس کا ایک تقدس ہوتا ہے، اور جس کا ہر لفظ صلوات سے شروع ہوتا ہے اور جس سے جماعت تبرک کی طرح سنتی ہے۔

فیس بک پر کچھ ڈرپوک اور خودساختہ لیڈر نما چاپلوس لوگ اپنے مواد کو وائرل کرنے کے لیے اپنے الفاظ کو امامِ زمان کے نام سے منسوب کرکے پوسٹ کرنے لگے ہیں، جو انتہائی شرمناک ہے۔

ایسا کوئی بھی مراسلہ جس میں ہدایات ہوں، فیس بک پر چند افراد کے اکاؤنٹس سے جاری نہیں ہوتا۔

اسماعیلی فرقے کی جماعت کو رواداری، محبت اور تکثیریت کسی چاپلوس سے سیکھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کے ہر گھر میں مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی کا فرمان زندہ و جاوید موجود ہے۔

کسی فرقے کے ساتھ اچھے تعلقات اور رواداری کے لیے اپنے الفاظ کو مولانا حاضر امام شاہ رحیم الحسینی کے نام سے منسوب کرنا ایک انتہائی گھٹیا اور ناپسندیدہ عمل ہے، جو اسماعیلی فرقے کے لوگوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف ان کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ کسی بھی طور اسماعیلی آئین سے بغاوت سے کم نہیں۔

اسماعیلی فرقے کا ہر جماعتی ممبر یہ سمجھتا ہے کہ دوسرے فرقوں سے کیسے پیش آنا ہے۔ یہاں کسی نے جا کر کسی پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ہماری تربیت ایسی ہے۔ اسماعیلی فرقے کا ہر فرد یہ جانتا ہے کہ انہیں کس طرح، کب اور کیا لکھنا اور پڑھنا ہے۔

اس لیے امام کے نام سے اپنی باتیں شیئر نہ کریں۔ اگر ان حالات میں جماعت کو کچھ بتانا ہو تو اس کے لیے باقاعدہ فورم موجود ہے۔ اسی فورم کے ذریعے اپنی بات پہنچائیں۔

03/03/2026

کاپی
بلتستان میں امامتی ادارے نہیں میرا وجود جل رہا ہے۔

گلگت بلتستان کے اندر امامتی اداروں کو جلانا انتہائی افسوس ناک ہے۔ چار دہائیوں سے یہ ادارے بلا امتیاز یہاں کے لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ دوسرے فرقے کے لوگوں کے لیے دل میں پلنے والی نفرت اور غصے کو ظاہر کرتا ہے۔

رہبرِ شیعہ فرقہ علی خامنہ ای کی شہادت کا دکھ سب کو ہے۔ دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں تھا جہاں اس غم کو محسوس نہ کیا گیا ہو اور اس کی مذمت نہ کی گئی ہو۔ جہاں سنی مکتبۂ فکر کے لوگ چلاس میں اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج کر رہے تھے، اسی وقت اسماعیلی قائدین کے وفد نے شیعہ رہنماؤں کے پاس جا کر اظہارِ ہمدردی کیا۔ دکھ کی اس گھڑی میں وہ اس غم میں ان کے ساتھ کھڑے تھے، اس وقت بھی جب اسکردو میں امامتی اداروں میں آگ لگائی جا رہی تھی۔

بظاہر دیکھا جائے تو ایک بلڈنگ، کچھ گاڑیاں اور کچھ افراد جو یہاں کام کرتے ہیں اور اپنے گھر کی روزی روٹی چلاتے ہیں متاثر ہوئے ہیں۔ بلڈنگ کو آگ نہیں لگائی گئی بلکہ اس سوچ کو مٹانے کی کوشش کی گئی جو پچھلے چار دہائیوں سے بلا امتیاز اس خطے میں فنڈز لا کر لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ چار دہائیوں پر محیط اس لمبے عرصے کو دیکھا جائے تو اس ادارے کی سوچ نے اس خطے میں بہت کچھ بدل دیا ہے۔ مگر افسوس آج لوگوں نے اس سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسماعیلی مکتبۂ فکر کے لوگ ان اداروں کو اپنے مفاد اور فائدے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے، بلکہ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ہمسفر بھی ساتھ ساتھ منزل تک نہیں پہنچتا، منزل ادھوری ہی رہتی ہے۔

مجھے تکلیف یہ نہیں کہ آگ لگائی گئی، گاڑیاں جلائی گئیں اور نہ ہی مجھے اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ وہاں کے لوگوں نے ہی آگ لگائی۔ کیونکہ جب چلاس میں ایک چھوٹی سی جگہ جہاں جماعت خانے کی تھوڑی سی زمین وقف تھی وہاں گرنیڈ سے حملہ ہو سکتا ہے اور اس کی دوبارہ تعمیر پر پورا سوشل میڈیا آگ بگولہ ہو سکتا ہے، تو اتنے بڑے حادثے کے بعد اے کے ڈی این کے ادارے محفوظ رہیں گے، اس کی گارنٹی کوئی نہیں تھی۔ مجھے تو تعجب ہوتا اگر کسی ادارے کی حفاظت کر کے اسے جلاؤ گھیراؤ سے بچایا جاتا۔ جس خطے پر ہم رہ رہے ہیں وہاں کچھ لوگ مقدس ہستیوں کو نہیں بخشتے تو ان کے لیے بلڈنگز کو جلانا کون سی بڑی بات ہے۔

یہ بنیادی طور پر کوئی غصہ نکالنے یا بدلہ لینے کی بات نہیں، یہ بنیادی طور پر دلی تسکین کی بات ہے۔ یہ وہ تسکین ہے جس کی آبیاری برسوں کی گئی ہے، جس سے اسے سینچا گیا ہے، جس سے اسے تیار کیا گیا ہے ایک ہتھیار کی طرح۔
کیونکہ میرے دوست، یہی تو رہبری کا سوال ہے کہ کسی کو آبادکاری میں سکون ملتا ہے اور کسی کو بربادی میں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ آگ لگائی گئی، مسئلہ یہ بھی نہیں کہ ہجوم نے ایسا کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہاں اور بھی فاؤنڈیشنز ہیں، غصے میں وہ کیوں نہیں جلیں؟ کیا وہاں شیعہ مکتبۂ فکر کے این جی اوز نہیں ہیں؟ کیا وہاں اور بلڈنگز نہیں ہیں؟ کیا وہاں اور ادارے نہیں ہیں؟ ہاں، بہت ادارے ہیں مگر سوچ جہاں ختم ہوتی ہے وہ یہی ہے جو نظر آ رہا ہے۔ یہ نفرت ہے، یہ غصہ ہے جو ان لوگوں نے عملی طور پر ظاہر کیا۔

میرے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہ ہے کہ بہت سے نوجوان اور بہت سے لوگ اس معاملے کو ایسے پیش کر رہے ہیں، بحث کر رہے ہیں، جیسے ان کے لیے یہ اقدام سچ و باطل کے درمیان انتخاب ہو، جیسے انہوں نے اسے جلا کر باطل کو شکست دی ہو۔ جیسے اپنے گھر کے صحن میں کوئی ٹکڑا پسند کا نہ ہو تو پورا آشیانہ ہی جلا دیا جائے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور شرپسندانہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ غم و غصے میں کوئی کام غلط ہوا اور اسے فتح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

شیعہ عالم و رہبر نے فرمایا بھی کہ احتجاج ریکارڈ کرائیں مگر اپنے اردگرد کے اداروں اور انسانی جانوں کی حفاظت کریں۔

ایسا کوئی کونہ نہ تھا جہاں اس غم کو محسوس نہ کیا گیا ہو۔ پہلی بار میں نے دیکھا کہ کوئی ایسا فرقہ، کوئی ایسا ملک، کوئی ایسا شہر باقی نہیں تھا جہاں اس اقدام کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی ہو، مگر امامتی ادارے صرف بلتستان میں غیر محفوظ رہے۔

اگر میں ایک کٹر اسماعیلی ہوتا، شدت پسند و شرپسند اسماعیلی ہوتا، اور اگر میں اپنے مولانا حاضر امام کے فرامین پر عمل پیرا نہ ہوتا، اور اگر میں اپنے وقت کے امام کے فرامین کی روشنی میں تکثیریت کو نہ مانتا، تو امامتی اداروں کے اندر کام کرنے والے تمام فرقوں کے لوگوں کو ان اداروں سے ہمیشہ کے لیے فارغ کر دیتا۔ وہ تمام ترقیاتی و فلاحی کام جو غیر اسماعیلی آبادیوں میں جاری ہیں انہیں سمیٹ کر ان علاقوں میں منتقل کر دیتا جہاں اسماعیلی آباد ہیں۔ اور ان اداروں میں اوپر سے آخر تک سارے اسماعیلی ہوتے۔ کچھ نہ بھی دیتا تو بھی عقیدت میں ہی ان کا احترام کرتے اور رضاکارانہ کام کرتے۔

شاید بلتستان والوں کو اندازہ ہی نہیں کہ انہوں نے کیا کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال میں اے کے آر ایس پی کے تین ڈویژن تھے، ایک چترال میں، ایک گلگت میں اور ایک بلتستان میں۔ یاد رکھیں، یہ ڈویژن غذر میں نہیں تھے، یہ ہنزہ میں نہیں تھے، یہ گلگت اور بلتستان میں تھے۔ افسوس کہ آج وہی سدسرے جل رہے ہیں اور اداروں کی خاکستر حالت اپنی اشتراکیت پر ماتم کررہی ہے۔

جلتے ہوئے انفراسٹرکچر کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خواہش جاگی ہے، یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ان اداروں کے ہیڈکوارٹر ایسے شہروں سے شفٹ کر کے ایسے علاقوں میں قائم کر دیے جائیں جو اسماعیلی اکثریتی علاقے ہیں، اور ان اداروں کے اندر اہم ترین پوزیشنز پر کام کرنے والے لوگوں پر نظرِ ثانی کی جائے، اور ان لوگوں پر بھی جو دھونس، دھمکی اور فرقہ وارانہ دباؤ کے ذریعے ان اداروں میں نہ صرف کام کر رہے ہیں بلکہ داخل ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ان کی نگرانی کر کے انہیں گھر بھیج دیا جائے۔ ان اداروں کی پہلی ترجیح اسماعیلی ہوں، پہلی تنخواہ بھی اسماعیلی کے گھر جائے، پہلا فلاحی کام بھی اسماعیلی کے گھر جائے۔

لیکن کیا کروں، میں ایک اسماعیلی ہوں نا۔ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے کی جستجو سی لگی ہے۔ کانٹوں والے ہاتھ بھی تھامنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ دوسروں کو بھی تکلیف میں دیکھ کر دل روتا ہے۔ اور میرے مولا نے فرمایا ہے کہ دنیا کے حالات اس وقت ٹھیک نہیں اور کچھ عرصہ ایسے ہی رہنے کا امکان ہے، تو میں مانتا ہوں، عمل کرتا ہوں۔ مگر اب امامتی اداروں کو اپنی پالیسیوں کو ازسرِ نو دیکھنے اور ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ جو ادارے روزگار دیتے ہیں، جو ادارے ترقی دیتے ہیں، جو ادارے تعلیم دیتے ہیں، جو ادارے کاروبار کے لیے گرانٹ دیتے ہیں، جو ادارے اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں پانی کی فراہمی، ایگریکلچر اور لائیو اسٹاک کے لیے، جو ادارے دہائیوں تک دن رات خدمت کر رہے ہیں، اگر فائدہ لینے والے ہاتھ ہی انہیں جلانے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ وہی ہاتھ کل وہاں کام کرنے والے ہمارے اسماعیلی بھائیوں کے گلے نہیں کاٹے جائیں گے۔

مجھے بہت تکلیف ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی نے سینہ چیر کر کلیجہ نکال لیا ہو۔ جیسے کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو اور میں چاہ کر بھی اسے نکال نہیں پا رہا ہوں۔

بار بار خاکستر دفتر کو دیکھ کر دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ آگ کی لپٹیں میرے جسم سے نکل رہی ہو، جیسے وہ دھواں میرے اپنے وجود کے جلنے کا ہو۔

دل یہ کہنے پر مجبور ہے:

میں کس کے ہاتھ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔

20/02/2026

ناجی اور بابا جان سے اتنا خوف کیوں
کیونکہ حق گوئی منافقوں کے لئے کسی سونامی سے کم نہیں۔
اگر ہنزہ غذر کے اندر ناجی اور باباجان کو ووٹ و سپورٹ کرنے پر یہ الزام لگتا ہے کہ یہ اینٹی اسٹیٹ ہیں تو ایسا بولنے والوں کی پارٹی کو ووٹ دینے والوں کو باباجان اور ناجی کے لوگ غدار قرار دیتے ہیں۔
الیکشن لڑنا اور اپنا موقف پیش کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ اور اس حق سے کوئی کسی کو پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
اس الیکشن میں مسلم لیگ کی تینوں سیٹیں بشمول ہنزہ نگر کو کشکول لیکر بھیگ کی طرح ووٹ مانگے گی تو بھی بھیگ کے سکے تو ملیں گے ووث نہیں۔
ہاں کچھ چاٹوکار نکلیں گے چاٹنے کے لئے خود کو اینٹی اسٹیٹ بھی مانیں گے، غدار بولنے پر بھی فخر کریں گے۔ بے عزت ہونگے۔ استعمال ہونگے۔ مگر اپنی چاٹوگری نہیں چھوڑیں گے۔
اگر بات فرقے کی ہے تو وہی صحیح اگر بات قوم پرستی کی ہے تو وہی صحیح اگر بات علاقوں سے نفرت کی ہے تو وہ صحیح، اگر بات زبان پھسلن کی ہے تو وہ صحیح۔ نام نہاد محب وطنوں کو ہم اینٹی اسٹیٹ والوں کی دھرتی میں خوش آمدید کہیں گے اور الیکشن میں ان کی پارٹی کو عوام کے زور سے زیرو سے ضرب دیں گے۔

19/02/2026

ضلع غذر کے حلقہ 1 کے امیدوار مسلم لیگ ن والے کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلی حفیظ کی قیادت میں منظم ہونگے، حلقہ 2 والے بھی یہی کہہ رہے ہیں، یعنی کہ یہ سیاست شروع کرنے سے پہلے ہی یہ مان رہے ہیں کہ وہ چھوٹے پاسنگ کی طرح ترازو کے پلڑو۔ کو بس برابر کررہے ہیں۔ یہاں نہ تو نظریہ ہے نہ ہی خدمت کی سیاست بلکہ مفاد اور طاقت کی جنگ ہے۔
حلقہ 1 والے ہار ہار کے اب ان کے دلوں میں اتنا غصہ بھرا ہے کہ وہ جیت کر ایسا انتقام لیں گے کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ کیونکہ یہ نہ تو سیاست ہے نہ ہی خدمت انہیں پاور چاہیے وہ جہاں سے بھی ملے جیسے بھی ملے۔ حاصل کرنا ان کا آخری مقصد۔ وہ مخالفین کو دکھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ کیا انتقال لی سکتے ہیں۔
حلقہ 2 کے امیدواروں کے پاس پیسے ہیں این جی اوز اور ہاوسنگ سوسائٹیز پر کام کررہے ہیں کما رہے ہیں اور زندگی پوری عیش و عشرت میں گزری ہے۔ سیاسی میدان میں ان کے کپڑوں میں ایک داغ بھی نہیں پڑا ہے۔ سیاسی میدان کے نابلد لوگ ہیں۔ آئیں گے جیتیں گے تو انجوائے کریں گے ہاریں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ سیاست نہ جانتے ہیں اور نہ پاور کو استعمال کرنا ان کی سمجھ میں آتا ہے۔ بس ان کے لئے ٹشن چاہئے آنے والے نام کے ساتھ وزیر و مشیر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی لکھا اور پڑھا جائے گا۔ ان کو بھی غرض نہیں کی پاور کوریڈور میں وہ کیا تیر مارنےوالے ہیں۔
اگر سیاست اور خدمت ہی ہوتی اور اس سے ہار جیت کا واسطہ اور پاور کے استعمال کی بات نہ ہوتی تو گلبر خان چچا کی پارٹی بہتر کیوں نہ تھی جو کم از کم یہ تو کہہ رہے تھے سب سے کم عمر سیاست دان ہیں جو وزیرِ اعلیٰ بھی ہوسکتے ہیں۔ گنجائش تو تھی مگر چونکہ سرنڈر کرنا ہی ہماری عادت ہے تو سرنڈر کردئے۔
این جی اوز اور طاقت کا نشہ دونوں حلقوں کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اہمیت اس کی نہیں جو پاور کے نشے میں ہو، اہمیت اس کی ہے جو عوام کے درد کو سمجھے مشکلات کو سمجھے اور ان کے درمیان رہے۔
مگر اس قوم کو ایسا نہیں چاہئے یہ قوم منافقوں کی انتہاء درجے پر فائز ہوئی ہے اور ان کے سروں پہ بھی لوگ ایسے مسلط ہونگے۔ یہ سو پیاز بھی کھائیں گے اور سو جوتے بھی۔

Address

Ghizer
Islamabad
15200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghizerians posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category