22/02/2023
*عرب و ہِند عہدِ رسالت میں*
رسولﷺ کی بعثت کے وقت ملکِ عرب کے اطراف و جوانب میں غیرملکیوں کی بہت زیادہ آبادی تھی، اور جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب میں پھیلی تو عربوں کی طرح وہاں پر آباد دوسری قوموں کو بھی اس سے واسطہ پڑا، اور عربوں کی طرح عام طور سے وہ بھی مسلمان ہو گئیں یا ان میں سے کچھ لوگوں نے جزیہ دے کر اپنے دین پر قائم رہنا پسند کیا۔
شمال مغرب میں شام سے متصل عربی علاقہ رومیوں کے قبضہ میں تھا اور وہاں رومیوں کی طرف سے عرب حکمران انتدابی قسم کی حکومت کرتے تھے، جیسے شام کے غساسنہ اور جہرہ کے منازرہ، شمال مشرق میں عراق پر شاہانِ ایران کا قبضہ تھا جن کا مرکز *ابلہ* تھا، اور خلیج عربی کے پورے سواحل، بٙحرٙین اور عمان پر ان کے اساورہ یا ان کے ماتحت عرب حکمران حکومت کرتے تھے۔ یہ سلسلہ یمن تک قائم تھا اور مشرقی جنوبی عرب کا پورا ساحلی علاقہ ایرانیوں کے قبضہ میں تھا۔ پھر یمن سے مغرب کے علاقوں میں حبشہ اور زنج کثیر تعداد میں موجود تھے۔
رسولﷺ کے عہدِ طفولیت میں یمن کے عرب حکمران *سیف بن ذی یزن* کو حبشہ کے بادشاہ نے مغلوب کر کے پورے یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر اس کے فوراً بعد ہی وہاں پر ایرانیوں کا قبضہ ہوگیا جو بعثتِ نبوی کے وقت تک قائم رہا۔
عرب کی اِن حدود پر غیر ملکی قابض و دخیل تھے اور ان کے آدمی یا نمائندے حکمرانی کرتے تھے، اس بعثتِ نبوی کے وقت عرب میں رومی، ایرانی، حبشی اور ہندی اپنے اپنے اثر و اقتدار کے ساتھ موجود تھے۔
ہندوستان کی قومیں اگرچہ عرب میں براہ راست اپنا اثر و اقتدار نہیں رکھتی تھی مگر مختلف وجوہ سے ان کی حیثیت بلند تھی، جس میں بڑا دخل ایرانیوں کے عرب پر قبضہ کو تھا۔
ایرانی ایک طرف ہندوستان اور سندھ و بلوچستان کے راجوں، مہاراجوں اور یہاں کے لوگوں کو اپنے اثر و اقتدار میں رکھتے تھے اور دوسری طرف عرب کے ساحلی علاقوں میں عراق سے لے کر یمن تک حاکمانہ طاقت رکھتے تھے۔ اس لیے ہندوستانیوں کو عرب کے ان حدود میں ایرانیوں کے توسُّط سے اقتدار نصیب ہوا، اور ایران کی فوج اساورہ میں ہندوستان کے بہت سے آدمی شامل ہوکر عرب میں رہنے لگے۔ ہندوستان اور عرب کے قدیم ترین تجارتی تعلقات کے بعد ایران کے توسط سے اس حاکمانہ تعلق نے ان میں عرب سے مزید دلچسپی پیدا کی اور یہاں کے لوگ ہندوستانی اشیاء کی تجارت، عرب کے جہازوں اور کشتیوں پر ملازمت اور عرب میں آباد ہو کر وہاں کے اقامت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے، جس کے نتیجہ میں عہدِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں عرب کے اندر ہندوستانیوں کی مختلف قومیں اور جماعتیں رہنے لگیں اور ان کو عرب کے باشندے اپنی زبان میں مختلف ناموں سے یاد کرتے تھے۔ چنانچہ عربوں نے اپنے ملک میں آباد ہندوستانیوں کو زط، سیابجہ، احامرہ، مید، بیاسرہ وغیرہ کے ناموں سے موسوم کیا۔ کسی ملک کے آدمیوں کو اتنے زیادہ نام و لقب سے یاد کرنا اس کی صریح دلیل ہے کہ وہاں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ ہر طرف مشہور تھے، چونکہ عربوں اور ہندوستانیوں میں بڑی حد تک مذہبی یکجہتی تھی اس لیے وہ بڑی آسانی سے عربوں کی زندگی میں مل جل گئے۔
انہی حالات میں مکہ مکرمہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، کیوں کہ تیرہ سال تک مکی زندگی مقامی کفار و مشرکین کی وجہ سے مظلومیت میں گزری، اس لئے عرب کے انتہائی کی حدود کے لوگوں کو اسلام سے کم واقفیت ہوئی اور وہاں کے عربوں کی طرح ہندوستانی بھی اسلام سے تفصیلی طور سے واقف نہیں ہو سکے۔ البتہ مکی زندگی میں حبشہ کی طرف صحابہ کرام کی ہجرت ہوئی۔ اس لئے حبشہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو اسلام کی عام واقفیت ہوئی۔
اغلب یہ ہے کہ اس سلسلے میں حبشہ کے سامنے سواحل کے عربی اور عجمی باشندوں کو بھی اسلام کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوئی ہوں گی۔ چنانچہ حضرت باذان رضی اللّٰہ عنہ حاکمِ یمن ابتدائے بعثت ہی میں اسلام لائے اور ان کے ساتھ یمن میں مقیم بہت سے اساورہ اور ایرانی نسل کے ابناء بھی مسلمان ہوئے۔ اس کے باوجود دعوت و تبلیغ کے طور پر ان اطراف میں اسلام کی تفصیلی معلومات نہیں ہوئیں اور اس کا موقع اس وقت آیا ہم جب رسولﷺ نے بعثت کے تیرھویں سال مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے واقعہ نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے متعلق نہ صرف عرب کے انتہائی حدود میں تفصیلی واقفیت کے لئے راہ پیدا کی بلکہ اطراف و جوانب کے ان ممالک میں بھی اس کی خبر پہنچی جو عرب سے متصل تھے، اور ان ممالک سے عرب کے قدیم تعلقات تھے اور جس طرح دوسرے ممالک میں یہ خبریں پہنچیں، ہندوستان میں بھی ان کو سُنا گیا اور دلچسپی ظاہر کی گئی۔
پھر جب رسولﷺ نے 7 ہجری اور 8 ہجری کے درمیان حدودِ عرب میں دعوتِ اسلام بھیجی اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو اسلام کا مبلغ و داعی اور قاصد بنا کر عرب اور بیرونِ عرب کے رئیسوں، حاکموں اور با حیثیت لوگوں کو خطوط بھیجے تو اس وقت عراق سے لے کر مشرقی سواحل اور یمن تک میں اسلام کی دعوت عام ہوئی اور اطراف کے علاقوں کی طرح عجم، فرس اور مجوس وغیرہ بھی اس کی دعوت سے تفصیلی طور پر واقف ہوئے۔ انہی کے ساتھ یہاں کے ہندوستانی باشندے بھی عام طور پر اسلام سے باخبر ہو کر یا تو مسلمان ہوئے اور اسلامی زندگی کا جزو بن گئے یا عام مجوسیوں کی طرح یہ لوگ بھی اپنے آبائی مذہب پر قائم رہ کر جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گئے اور ان کو مجوس میں شمار کیا گیا۔
نیز عہدِ رسالت میں جس طرح اسلام کا چرچا دیگر ممالک میں ہوا، ہندوستان میں بھی ہوا اور یہاں کے مذہبی لوگوں اور راجوں مہاراجوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام سے براہِ راست تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی اور دعوتِ اسلام کو سمجھنا چاہا، خود رسولﷺ نے ہندوستان اور یہاں کے لوگوں کے متعلق باتیں کیں۔ قرآنِ حکیم میں ہندوستانی اشیاء کے نام آئے اور اُن کا تذکرہ فرمایا گیا۔ احادیث میں ہندوستان کے باشندوں اور یہاں کی چیزوں کا تذکرہ آیا۔ یہاں کی بہت سی اچھی چیزوں کو رسولﷺ نے استعمال کا حکم دیا، بہت سی بری باتوں سے منع فرمایا، اور دورِ رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اسلامی ادبیات میں ہندوستان کی قوموں کے، یہاں کی چیزوں کے اور اِس ملک کی باتوں کے تذکرے آئے، قرآن و حدیث کے علاوہ صحابہ کرام کے اشعار میں ان کا تذکرہ آیا ہے۔
جاری ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
* *
*صوفی زادہ 💓*