27/12/2024
میانوالی کا شیردل، شیر خان نیازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ماہرین تعمیرات کے نزدیک دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بلا شبہ اس صدی کے عجائبات میں سے ایک ہے
162منزلوں 2722فٹ بلند اس منفرد عمارت کی تعمیر پر8 ارب امریکی ڈالر کے برابر لاگت آئی تھی۔اس کی تعمیر کا اہتمام مشہور کورین کمپنی سام سنگ سی اینڈ ٹی نے بلجیم کی معروف کمپنی ''بیسکس ‘‘ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی '' عرب ٹیک‘‘ کے ساتھ ملکر کیا تھاجبکہ بنیادی کنسٹرکشن کا انتظام'' ٹرنر ‘‘ نامی کمپنی کے سپرد تھا۔
برج خلیفہ اس لحاظ سے ایک منفرد عمارت ہے کہ اس میں30 ہزار رہائشی اپارٹمنٹ، ہوٹل ، ایک جھیل، 19 رہائشی ٹاور ، 48کنال پر محیط باغات، ریسٹورنٹس، دفاتر ، شاپنگ سنٹرز، فٹنس سنٹرز اور 158 ویں منزل پر دنیا کی بلند ترین خوبصورت مسجد اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
اس بلند ترین عمارت پر پوسٹ دینے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے اس آٹھویں عجوبے کے ساتھ میانوالی کا نام بھی جڑا ہے ۔
اس بلند ترین عمارت کی تعمیر کے دوران
بڑے بڑے چینلجز اور مشکلات کا سامنا رہا جن میں ایک چیلنج یہ بھی تھا کہ سامان اٹھانے والے کرینوں میں 120 منزل کے بعد سامان لے جانے کی صلاحیت نہیں تھی جس کا حل سیلف جیک مینکانزم کے ذریعے نکالا ۔
جب اس عمارت کی تعمیر 140ویں منزل پر پہنچی تو کرین آپریٹرز نے مزید بلندی پر کام کرنے سے انکار کردیا
اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایچ آر فرم نے دنیا سے بہترین کرین آپریٹر ہائر( Hire)کئے جو بلندی پر کام کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور جنہیں بلندی پر آپریٹنگ سے ڈر نہیں لگتا تھا ۔
ان ہی بہادر کرین آپریٹرز میں ایک میانوالی کا شیر دل شیر خان بھی تھا۔
بلاشبہ 700میٹر کی اونچائی پر کرین اپریٹریٹنگ جان جوکھوں کا کام تھا جسے کوئی دل گردے والا ہی کرسکتا تھا اور یہ اعزاز میانوالی کے ایک شیردل محنت کش شیر خان کو حاصل ہوا
داؤد خیل کے علاقے کچہ کے رہائشی شیر خان کا تعلق سالار قبیلے سے ہے ۔
برج خلیفہ پر بننے والی زیر نظر ڈاکومنٹری ویڈیو میں میانوالی کے اس بہادر سپوت کو دکھایا گیااور اس کی تعریف کی گئی ہے
برج خلیفہ کی طرح میانوالی کا نام آسمان کی بلندی تک پہنچانے پرہم اپنے محنت کش کرین آپریٹر شیر خان سالار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
"سلطان خیل نیازی پشتون"