The Great Rajputs

The Great Rajputs Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Great Rajputs, History Museum, Rawalpindi West Ridge.

The Rajput code of honour calls for a very high standard of character, and that this high standard has been uninterruptedly maintained is shown by their present ready response to the call to arms.

26 مارچ یوم شہادت دلا بھٹی دلا بھٹی جو کہ پنجاب کی تاریخ کے مایہ ناز کردار ہوئے اپنی دلیری اور مؤقف پہ ڈٹے رہنے کی وجہ س...
26/03/2026

26 مارچ یوم شہادت دلا بھٹی

دلا بھٹی جو کہ پنجاب کی تاریخ کے مایہ ناز کردار ہوئے اپنی دلیری اور مؤقف پہ ڈٹے رہنے کی وجہ سے تقریباً چار سو سال قبل آج کے روز سولی پہ چڑھا دیے گئے

28/01/2026

راجپوت بھائی اپنی اپنی گوت اور گاؤں کا نام کمنٹ کریں

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 56عنوان : راجہ راوک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی راجہ راوک ...
24/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 56
عنوان : راجہ راوک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ راوک یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

راوک سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی محبت کے ہیں

راجہ راوک کا اصل نام راوھک تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام راوک ، راوھک ، راوک وغیرہ درج ہے

راجہ راوک اپنے والد بھوج شورسینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ راوک کے بیٹوں میں راجہ دیومیدھ زیادہ معروف ہوئے جو کہ بعد ازاں والئی ریاست بنے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ راوک کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ راوک کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ راوک درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ راوک کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ راوک کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ راوک کا نام راوک ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولانا نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ راوک کا نام درج ہے

راجہ راوک یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ راوک کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ راوک کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
راوک بن بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 55عنوان : راجہ بھوج یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی راجہ بھوج ...
23/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 55
عنوان : راجہ بھوج یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ بھوج یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

بھوج سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عظیم بزرگ کے ہیں

راجہ بھوجہ کا اصل نام بھوج تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام بھوج ، بھج ، بھوجہ وغیرہ درج ہے

راجہ بھوج اپنے والد سینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ سینی کے بیٹوں میں صرف بھوج کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے

تاریخ میں راجہ بھوج ایک گمنام یا معمولی حیثیت و اقتدار کے حکمران ثابت ہوئے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ بھوج کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ بھجن کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ بھوج درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ بھوج کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ بھوج کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ بھوج کا نام بھوج ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولوی نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ بھوج کا نام درج ہے

راجہ بھوج یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ بھوج کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ بھوج کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 54عنوان : راجہ سینی عرف شینی یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی ر...
19/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 54
عنوان : راجہ سینی عرف شینی یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ سینی یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

سینی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر والا یا شیر کے ہیں

راجہ شور نے اپنی حیات میں ہی شورپورہ کا والئی اپنے بڑے بیٹے شینی کو مقرر کیا -

راجہ شینی کے والد شُور نے اپنے نام سے ایک نیا شہر شُورپورہ بسایا جو متھرا کے نواح میں واقع تھا - اس شہر کو مرکزی مقام دے کر یادو بنس نے خوب رونق بخشی

راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کُتب میں شینی یا سینی کے نام سے ہوا ہے

راجہ شور کے بیٹے سینی نے اپنے نام اور اپنے والد (شُور) نے نام سے شور سینی ونش چلایا اور اسی نام سے سموت اور ادبی خدمات بھی انجام دیں

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں شورسین ریاست میں بولی جانے والی زبان کو شورسینی سنسکرت کہا جاتا تھا اور اسی شورسینی زبان کی شاخوں میں پنجابی ، سندھی ، مارواڑی ، راجستھانی ، گجراتی ، مہاراشٹری ، اتر پردیش ، ہریانوی اور پہاڑی کشمیری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں - کتاب "تین ہندوستانی زبانیں از ڈاکٹر کے ایس بیدی" صفحات نمبر 64 تا 66 پہ شورسینی زبان کے متعلق مفصل معلومات درج ہے

راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی جن کتب میں آیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10

تاریخِ میو چھتری از حکیم عبد الشکور صفحہ نمبر 192-207 جبکہ 204 نمبر صفحہ پہ یادو ونش کی راجدھانیوں میں شُورپورہ کا تذکرہ ملتا ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحات نمبر 257 تا 265 تک شورسینی راجپوتوں کا مفصل تذکرہ موجود ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق کے صفحہ نمبر 457 پہ راجہ شُور سے متعلق کچھ یوں درج ہے :
شری برہما جی کے فرزند کا نام اترے اور ان کے پوتے کا نام سمدر اور سمدر کے لڑکے کا نام سوم یعنی چندر تھا
اور یہی بانئِ خاندان چند بنسی ہوا ۔ لیکن سوم کے بعد سات پشتیں گزر گئیں تو ججات کا جنم ہوا -
جو اپنے زمانہ میں نہ میں چکرورتی اور بڑا نامور مہاراجہ ہو گزرا ہے ۔ اس کے سب سے بڑے بیٹے کا نام یادو تھا ۔ اس کے نام سے قوم یادو بنسی مشہور ہوئی مہاراجہ یادو کے بیالیس (42) پشت تک یادو کی اولاد یادو بنسی کہلاتی رہی لیکن اس کے بعد یادو بنسی قوم میں مہاراجہ دُورتہ کا بیٹا شُور نامی پیدا ہوا اور شُور کا بیٹا سینی کے نام سے موسوم ہوا - انہی باپ بیٹوں کے نام سے شورسینی قوم مشہور ہوئی - جو راجہ پرتابی ، تپستوی اور رعایا کو امن و امان سے رکھتا تھا وہ ایشور بھگت ہوتا تھا - اس کے نام سے قوموں کے نام مشہور ہو جاتے تھے - مہاراجہ شُور بڑا ایشور بھگت اور پرادپکاری تھا - شورسینی قوم کا بڑا مشہور شہر شُورپورہ اس کے نام پہ بسایا گیا - اور اس کے بیٹے سینی کے بھی اسی طرح ایشور پرست اور نہایت نیک تھا ۔ یہ دونوں باپ بیٹا بڑے مدبر ، عالی حوصلہ ، قول کے دھنی اور نیکی اور بہادری کی زنده منور مورتی ہونے کی وجہ سے ان کے اوصاف کے ترانے اب تک متھرا اور دیگر شور سینی علاقہ کے لوگ گاتے ہیں۔ ان کے رعایا کے ہر دلعزیز ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ قوم کا نام جو 42 پشتوں سے یادو بنسی چلا آتا تھا ، شور سینی پڑ گیا
سینی کے بعد پانچ پشت تک کے فرمانروا شور سینی کہلاتے رہے یعنی شور اور سینی کے بعد اور شری کرشن جی سے قبل شورسینی بنس مشہور رہا ۔ مگر شری کرشن جی کے عہد میں شور سینی بنس کی بجائے یادو بنس زیادہ مروج رہا

مرقع میوات از خانزادہ شرف الدین احمد شرف صفحہ نمبر 23 پہ درج ہے :
راجہ دُورتھ کا بیٹا شور اور اس کا بیٹا سینی پیدا ہوا - تو انہی باپ بیٹوں کے نام پر قوم کا نام جادو بنسی سے بدل کر شورسینی مشہور ہوگیا - جو راجہ زیادہ زبردست اور دھرماتما ہوا ہے اس کے نام پر قوموں کا نام بھی مشہور ہوتے رہے ہیں لیکن راجہ سینی کے بعد صرف پانچ پشت تک ہی یہ نام مشہور رہا اسکے بعد سری کرشن کے زمانے میں وہی سابقہ یادو نام مشہور ہوا -
امین التواریخ از مولانا نور محمد معاون فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 پہ راجہ شور کا نام درج ہے
راجہ انور جنجوعہ کی کتاب "تاریخ بھٹی راجپوت" کے صفحہ نمبر 5 پہ دیے گئے شجرہ نسب میں راجہ شور بن دیورت کا نام درج ہے

راجہ شینی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
شینی بن شُور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

کھوکھر راجپوتکچھ کم علم یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کو اپنے چشمے سے پڑھنے والے یا تاریخ میں بغض و حسد رکھنے والے افر...
18/01/2026

کھوکھر راجپوت

کچھ کم علم یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کو اپنے چشمے سے پڑھنے والے یا تاریخ میں بغض و حسد رکھنے والے افراد کھوکھر راجپوتوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں

کھوکھر راجپوتوں کی نسبی عظمت ہر محقق جانتا ہے - جنہیں اس خاندان کی تاریخ کا علم نہیں وہ تحقیق کرے -

مہابھارت سے بھی پرانی تاریخ رکھنے والے کھوکھر دراصل چندر ونشی راجپوتوں کا ایک مشہور اور مقبول قبیلہ ہے

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 53عنوان : راجہ سُور عرف شُور یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی ر...
18/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 53
عنوان : راجہ سُور عرف شُور یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ شُور یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

شُور سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سورما یا بہادر جنگجو کے ہیں

راجہ دُورتھ نے اپنی حیات میں ہی گجرات کاٹھیاواڑ کا والئی اپنے بڑے بیٹے شُور کو مقرر کیا - راجہ مذکور سے گجرات کاٹھیاواڑ کا تخت سوریا ونشی راجکمار کش نے چھین لیا جس کے بعد راجہ شُور نے ایک نیا شہر بسایا

راجہ شُور نے اپنے نام سے ایک نیا شہر شُورپورہ بسایا جو متھرا کے نواح میں واقع تھا - اس شہر کو مرکزی مقام دے کر یادو بنس نے خوب رونق بخشی

راجہ شُور کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کُتب میں شُور یا سُور کے نام سے ہوا ہے

راجہ شور کے بیٹے سینی نے اپنے نام اور اپنے والد (شُور) نے نام سے شور سینی ونش چلایا اور اسی نام سے سموت اور ادبی خدمات بھی انجام دیں

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں شورسین ریاست میں بولی جانے والی زبان کو شورسینی سنسکرت کہا جاتا تھا اور اسی شورسینی زبان کی شاخوں میں پنجابی ، سندھی ، مارواڑی ، راجستھانی ، گجراتی ، مہاراشٹری ، اتر پردیش ، ہریانوی اور پہاڑی کشمیری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں - کتاب "تین ہندوستانی زبانیں از ڈاکٹر کے ایس بیدی" صفحات نمبر 64 تا 66 پہ شورسینی زبان کے متعلق مفصل معلومات درج ہے

راجہ شُور کا تذکرہ تواریخ کی جن کتب میں آیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10
تاریخِ میو چھتری از حکیم عبد الشکور صفحہ نمبر 192-207 جبکہ 204 نمبر صفحہ پہ یادو ونش کی راجدھانیوں میں شُورپورہ کا تذکرہ ملتا ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحات نمبر 257 تا 265 تک شورسینی راجپوتوں کا مفصل تذکرہ موجود ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق کے صفحہ نمبر 457 پہ راجہ شُور سے متعلق کچھ یوں درج ہے :
شری برہما جی کے فرزند کا نام اترے اور ان کے پوتے کا نام سمدر اور سمدر کے لڑکے کا نام سوم یعنی چندر تھا
اور یہی بانئِ خاندان چند بنسی ہوا ۔ لیکن سوم کے بعد سات پشتیں گزر گئیں تو ججات کا جنم ہوا -
جو اپنے زمانہ میں نہ میں چکرورتی اور بڑا نامور مہاراجہ ہو گزرا ہے ۔ اس کے سب سے بڑے بیٹے کا نام یادو تھا ۔ اس کے نام سے قوم یادو بنسی مشہور ہوئی مہاراجہ یادو کے بیالیس (42) پشت تک یادو کی اولاد یادو بنسی کہلاتی رہی لیکن اس کے بعد یادو بنسی قوم میں مہاراجہ دُورتہ کا بیٹا شُور نامی پیدا ہوا اور شُور کا بیٹا سینی کے نام سے موسوم ہوا - انہی باپ بیٹوں کے نام سے شورسینی قوم مشہور ہوئی - جو راجہ پرتابی ، تپستوی اور رعایا کو امن و امان سے رکھتا تھا وہ ایشور بھگت ہوتا تھا - اس کے نام سے قوموں کے نام مشہور ہو جاتے تھے - مہاراجہ شُور بڑا ایشور بھگت اور پرادپکاری تھا - شورسینی قوم کا بڑا مشہور شہر شُورپورہ اس کے نام پہ بسایا گیا

مرقع میوات از خانزادہ شرف الدین احمد شرف صفحہ نمبر 23 پہ درج ہے :
راجہ دُورتھ کا بیٹا شور اور اس کا بیٹا سینی پیدا ہوا - تو انہی باپ بیٹوں کے نام پر قوم کا نام جادو بنسی سے بدل کر شورسینی مشہور ہوگیا - جو راجہ زیادہ زبردست اور دھرماتما ہوا ہے اس کے نام پر قوموں کا نام بھی مشہور ہوتے رہے ہیں لیکن راجہ سینی کے بعد صرف پانچ پشت تک ہی یہ نام مشہور رہا اسکے بعد سری کرشن کے زمانے میں وہی سابقہ یادو نام مشہور ہوا -
امین التواریخ از مولانا نور محمد معاون فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 پہ راجہ شور کا نام درج ہے
راجہ انور جنجوعہ کی کتاب "تاریخ بھٹی راجپوت" کے صفحہ نمبر 5 پہ دیے گئے شجرہ نسب میں راجہ شور بن دیورت کا نام درج ہے

راجہ شُور کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
شُور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

کھوکھر راجپوتوں کی حکومتکھوکھر جسے تاریخ میں کھوکھر ، کھوکھرا ، کوکر ، کوکرا اور ککرا کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے دراصل ی...
17/01/2026

کھوکھر راجپوتوں کی حکومت

کھوکھر جسے تاریخ میں کھوکھر ، کھوکھرا ، کوکر ، کوکرا اور ککرا کے ناموں سے یاد کیا گیا ہے دراصل یہ خاندان یادو ونشی راجپوت کا ایک اہم ترین رکن ہے -

اس خاندان کے جد امجد کا نام کھوکھر تھا جو راجہ آندھک والئی متھرا کے فرزند ہوئے - راجہ کھوکھر کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :

راجہ کھوکھر نے اپنے بڑے بھائی بھجن کو متھرا کے تخت سے معزول کر کے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک وسیع و عریض سلطنت کے مالک بنے

متھرا پہ راجہ کھوکھر یادو ونشی کے بعد انکے بیٹے ستواہن نے اپنے اجداد کی ریاست کو سنبھالا -
یاد رہے کہ ستواہن نام سے یادو ونش میں اور بھی حکمران ہوئے اسی وجہ سے راجہ ستواہن بن کھوکھر کو ستواہن دوم بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ راجپوت کھشتریوں میں ایک قدیم روایت تھی کہ اکثر بچے کا نام اس کے پردادا کے نام پہ رکھا جاتا تھا - راجہ کھوکھر نے اپنے بیٹے کا نام بچے کے پردادا کے نام پہ ستواہن رکھا

بعد ازاں یہ موروثی سلطنت راجہ ستواہن کے بیٹے بلوما کو ملی -

راجہ بلوما کے بعد کپور ورما یا کپوت ورما نامی راجہ تختِ سلطنت پہ جلوہ افروز ہوئے

راجہ کپور ورما نے ایک عرصہ حکمرانی کے بعد سلطنت کی باگ ڈور اپنے بیٹے انو کو سونپ دی جو قابل حکمران ثابت ہوئے

راجہ انو کے بعد اندھک نامی راجکمار نے متھرا سلطنت کا تخت سنبھالا - یاد رہے کہ اندھک بن انو کھوکھر دراصل اندھک دوم تھے کیونکہ اندھک دوم کے اجداد میں راجہ اندھک اول آتے تھے

راجہ اندھک دوم کے بعد راجہ دھندسی پھر راجہ دیورتھ پھر راجہ پنروسو اور پھر راجہ آہوک بالترتیب حاکمان متھرا ہوئے -

راجہ آہوک کھوکھر یادو ونشی کے بعد متھرا کا تخت معروفِ زمانہ بادشاہ اگرسین کی وراثت بنا - پھر راجہ اگرسین کے بعد انکے بیٹے راجہ کنس کھوکھر متھرا کے مہاراجہ بنے - راجہ کنس کھوکھر کے بعد متھرا سے کھوکھر ونش کے راجپوتوں کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور متھرا کی ریاست یادو ونش کی ایک اور شاخ شورسینی کی ملکیت بنی جو کہ راجہ کھوکھر کے بھائی بھجمان کی اولاد تھے

یوں راجہ کھوکھر یادو ونشی سے راجہ کنس کھوکھر تک اس خاندان نے تقریباً 12 پشتوں تک متھرا پہ حکومت کی اور کئی بغاوتوں اور یلغاروں سمیت بڑے تاریخ ساز حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا

کھوکھر راجپوتوں کی حکومت ختم ہونے کے بعد اس خاندان کے افراد اتر پردیش ، ہریانہ ، راجستھان ، سندھ اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں پھیل گئے

راقم راجہ معراج عباس بھٹی کی تحقیق کے مطابق کھوکھر پنجاب میں پائے جانے والے پانچ بڑے راجپوت قبائل میں سے ایک ہے جس کی آبادی پنجاب کے تمام اضلاع میں موجود ہے

پنجاب کی تاریخ میں بھی کھوکھر راجپوتوں کا بہت اہم کردار رہا - پنجاب کے کئی عظیم سورمے بشمول راجہ جسرت کھوکھر اور شیخا کھوکھر کے ، اسی خاندان کے افراد تھے

پنجاب میں پنڈ دادن خان شہر سمیت کئی چھوٹی بڑی بستیاں کھوکھر راجپوتوں نے آباد کیں

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 52عنوان : راجہ دُورَتھ عرف دورتہ یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھ...
16/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 52
عنوان : راجہ دُورَتھ عرف دورتہ یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ دورتھ یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

دُورَتھ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سَیوا یا خدمت کرنا کے ہیں

راجہ دُورَتھ کا اصل نام بھجمن تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام دُورَتھ ، دورتہ ، دیورتھ اور دیومیدھ وغیرہ درج ہے

یادو ونشی راجپوتوں کی اندھک گوت میں راجہ بھجمن کے بعد انکے بڑے بیٹے دورتھ والئی ریاست بنے -

دورتھ محض ایک گمنام سے حاکم ہوئے جن کا تسلط انکی راجدھانی گجرات کاٹھیاواڑ پہ برائے نام ہی تھا

اس دور میں یادو ونشی راجپوتوں میں کھوکھر خاندان اپنے عروج پہ تھا اور اس خاندان کا ڈنکا متھرا سے پنجاب اور سندھ تک بجتا تھا

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ دُورَتھ کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ دورتھ کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ دُورتہ درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ دیورتھ کا نام دورتہ درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ دورتہ کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ بھجن کا نام بھجن ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ دیورتھ کا نام سے دیومیدھ درج ہے

تواریخ قدیم آریہ ورت از ٹھاکر نگینہ رام پرمار صفحہ نمبر 239 پہ راجہ بھوج کا نام حاکمانِ متھرا میں درج ہے
اسی کتاب کے صفحات نمبر 239 سے 245 تک درج واقعات کو مختصراً ذیل میں مفہوم یا مرکزی خیال کی صورت میں بیان کیا گیا ہے :
راجہ اندھک و راجہ ستوتی دراصل راجہ رام چندر جی مہاراج کے ہمعصر تھے - راجہ رام چندر جی نے اپنے بیٹے کش کو گجرات کا حاکم مقرر کیا تو یوں یہ علاؤہ یادو ونشی کھشتریوں کی ملکیت سے چلا گیا - بعد ازاں متھرا میں بھی اسی نسب کے پار اکبر کی راہداری کی حق تلفی کر کے یہاں کھوکھر راجہ حکمران ٹھہرا جس کی اولاد نے یہاں کچھ پشتوں تک حکومت کی - راجہ اندھک کے بعد راجہ بھوج متھرا کے راجہ بنے جنہیں کوکر نے معزول کر کے متھرا کی راج گدی سنبھالی

راجپوت ونشاولی از لال چند دھنتا صفحہ نمبر 95 پہ درج ہے :
دورتھ آدی انیک ورشن ونشی یادو ہوئے جن کی ایکشواکو نام کی استری (زوجہ) ہوئی

راجہ بھجن یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ بھجن کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ اندھک یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

راجہ ستوتی کے بیٹوں میں دو بیٹے اندھک اور ورشنی زیادہ معروف ہوئے - راجہ اندھک یادو ونشی کی اولاد سے بھوج ونشی اور کھوکھر قبائل معروف ہوئے - راجہ آندھک کی اولاد میں راجہ کھوکھر کے نام کی مناسبت سے انکی اولاد کھوکھر راجپوت کہلائی - حاکمانِ متھرا راجہ کنس اور راجہ اگر سین بھی کھوکھر راجپوت خاندان کے وارث تھے
بھوج ونشی خاندان بھی راجہ ستوتی کے بیٹے اندھک کی اولاد سے ہے

راجہ ستوتی کے دوسرے بیٹوں ورشنی اور دیورتھ کی اولاد یادو ونشی ہی کہلاتی ہے - اسی طرح راجہ اندھک کے بیٹوں میں کھوکھر اور بھجمان کے علاؤہ باقیوں کی اولاد بھی کسی اور بزرگ نے نام سے معروف ہونے کے بجائے یادو ونشی ہی کہلاتے رہے

راجہ اندھک کے بیٹے کھوکھر سے کھوکھر قبیلہ منسوب ہوا جبکہ راجہ کھوکھر کے دوسرے بھائی بھجمان (بھجمن) کے بیٹے دورتھ کی اولاد سے شورسینی راجپوت معروف ہوئے

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ دُورَتھ کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
دُورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 51عنوان : راجہ بھجن عرف بھجمن یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی ...
14/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 51
عنوان : راجہ بھجن عرف بھجمن یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ بھجن یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

بھجن سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سَیوا یا خدمت کرنا کے ہیں

راجہ بھجن کا اصل نام بھجمن تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام بھجن ، بھجمن ، بھجمان ، بجمان اور بھوج وغیرہ بھی درج ہے

راجہ بھجن اپنے والد اندھک یادو بنسی کے بعد متھرا کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں متھرا کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ بھجن ایک عقل مند فرمانروا ہوا جنہیں ان کے بھائی کوکر نے معزول کر کے متھرا کا اقتدار چھین لیا

راجہ بھجن اپنے والد راجہ اندھک یادو بنسی کی وفات کے بعد گجرات کاٹھیاواڑ کے تختِ سلطنت پہ جلوہ افروز ہوئے اور راجہ مذکور کی سلطنت کے ماتحت محض گجرات اور سندھ کا ہی کچھ علاقہ شامل تھا

راجہ اندھک کے بیٹوں میں کوکر (کھوکھر) ، بھجمن ، ورشنی اور ششی کمبھل کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے

راجہ بھجن کے دور حکومت میں متھرا پہ راجہ اندھک کے بیٹے کھوکھر نے زبردستی قبضہ کر لیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے راجہ کھوکھر یادو ونشی ایک وسیع و عریض سلطنت کے اکیلے مالک بن گئے

یہ بھی قیاس ہے کہ راجہ بھجن والئی گجرات دراصل راجہ کھوکھر والئی متھرا کے باجگزار تھے

تاریخ میں راجہ بھجن ایک گمنام یا معمولی حیثیت و اقتدار کے حکمران ثابت ہوئے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ بھجن کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ بھجن کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ بھجمن درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ بھجمن کا نام بھجن درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ بھجن کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ بھجن کا نام بھجن ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ بھجن کا نام سے بھج درج ہے

تواریخ قدیم آریہ ورت از ٹھاکر نگینہ رام پرمار صفحہ نمبر 239 پہ راجہ بھوج کا نام حاکمانِ متھرا میں درج ہے
اس کتاب کے صفحہ نمبر 241 پہ درج ہے
"اندھک متھرا میں حکومت کرتا رہا تھا - اس کی اولاد سے بھوج ایک عقلمند فرمانروا ہوا - اس نےمتھرا کو رونق بخشی کہ یہ شہر اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے روئے زمین کے تمام شہروں سے سبقت لے گیا یہی وجہ ہے کہ متھرا کے ساتھ بھوج کا نام بھی لاثانی ہوگیا - اس کے بعد مشہور راجہ ککر ہوا جس کے نام پہ ککر ونشی چلا"

راجپوت ونشاولی از لال چند دھنتا صفحہ نمبر 93 پہ درج ہے :
ستوت ایک راجہ ہوئے جن کے ساتھ پتر تھے - ان میں اندھک سے چار پتر ککور (کوکر) ، بھجمان ، شچی اور کمبلوارہی چار پتر ہوئے - کوکر سے کوکر ونشی چلا جبکہ بھج سے عام یادو بنسی ہوئے"
اسی کتاب کے صفحات نمبر 93-94 پہ کھوکھر راجپوتوں کا مفصل ذکر ہے

راجہ بھجن یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ بھجن کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ اندھک یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

راجہ ستوتی کے بیٹوں میں دو بیٹے اندھک اور ورشنی زیادہ معروف ہوئے - راجہ اندھک یادو ونشی کی اولاد سے بھوج ونشی اور کھوکھر قبائل معروف ہوئے - راجہ آندھک کی اولاد میں راجہ کھوکھر کے نام کی مناسبت سے انکی اولاد کھوکھر راجپوت کہلائی - حاکمانِ متھرا راجہ کنس اور راجہ اگر سین بھی کھوکھر راجپوت خاندان کے وارث تھے
بھوج ونشی خاندان بھی راجہ ستوتی کے بیٹے اندھک کی اولاد سے ہے

راجہ ستوتی کے دوسرے بیٹوں ورشنی اور دیورتھ کی اولاد یادو ونشی ہی کہلاتی ہے - اسی طرح راجہ اندھک کے بیٹوں میں کھوکھر اور بھجمان کے علاؤہ باقیوں کی اولاد بھی کسی اور بزرگ نے نام سے معروف ہونے کے بجائے یادو ونشی ہی کہلاتے رہے

راجہ اندھک کے بیٹے کھوکھر سے کھوکھر قبیلہ منسوب ہوا جبکہ راجہ کھوکھر کے دوسرے بھائی بھجمان (بھجمن) کے بیٹے دورتھ کی اولاد سے شورسینی راجپوت معروف ہوئے

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ بھجمن کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 50عنوان : راجہ اندھک عرف رادھک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی...
13/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 50
عنوان : راجہ اندھک عرف رادھک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ اندھک یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

اندھک سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اندھیرا نما یا سیاہ کے ہیں

راجہ رادھک کا اصل نام اندھک تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام اندھک ، اندک ، رادھک ، رادک ، تک وغیرہ درج ہے

راجہ اندھک اپنے والد راجہ ستوتی یادو بنسی کے بعد گجرات کاٹھیاواڑ کے تختِ سلطنت پہ جلوہ افروز ہوئے اور راجہ مذکور کی سلطنت کے ماتحت سندھ ، متھرا ، راجستھان اور پنجاب کا بیشتر بھی شامل تھا

راجہ اندھک کے دور حکومت میں متھرا ہی دارالخلافہ ہوا کرتا تھا اور جمنا دریا سے لے کر کابل دریا تک کا تمام علاقہ یادو ونشی راجپوتوں کی سلطنت میں شامل تھا

تاریخ میں راجہ اندھک ایک معروف حکمران ثابت ہوئے جن کا تذکرہ مہابھارت سمیت تمام قدیم کتب میں بھی ملتا ہے

راجہ اندھک کافی مشہور راجہ ہو گزرے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ راجہ مذکور کے نام سے ان کی اولاد کے یادو بنسی راجپوت کچھ عرصہ اندھک ونشی یادو بھی کہلاتے رہے ہیں

یہاں تک کہ مہابھارت نامی کتھا میں بھی اندھک ونشی یادو خاندان کا تذکرہ موجود ہے

راجہ اندھک کے بیٹوں میں کوکر (کھوکھر) ، بھجمن ، ورشنی اور ششی کمبھل کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ اندھک کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 میں راجہ اندھک کا نام اندک درج ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ اندک درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ اندھک کا نام اُندک درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ اندھک کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ اندھک کا نام رادھک درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ اندھک کا نام سے اندک درج ہے

تواریخ قدیم آریہ ورت از ٹھاکر نگینہ رام پرمار صفحہ نمبر 239 پہ راجہ اندھک کا نام حاکمانِ متھرا میں درج ہے
اسی کتاب کے صفحات نمبر 239 سے 245 تک درج واقعات کو مختصراً ذیل میں مفہوم یا مرکزی خیال کی صورت میں بیان کیا گیا ہے :
راجہ اندھک و راجہ ستوتی دراصل راجہ رام چندر جی مہاراج کے ہمعصر تھے - راجہ رام چندر جی نے اپنے بیٹے کش کو گجرات کا حاکم مقرر کیا تو یوں یہ علاؤہ یادو ونشی کھشتریوں کی ملکیت سے چلا گیا - بعد ازاں متھرا میں بھی اسی نسب کے پار اکبر کی راہداری کی حق تلفی کر کے یہاں کھوکھر راجہ حکمران ٹھہرا جس کی اولاد نے یہاں کچھ پشتوں تک حکومت کی -

راجہ اندھک کا تذکرہ مہابھارت ، رامائن ، پوران اور ہری ومسہ جیسی قدیم ترین تواریخی کتب میں بھی موجود ہے

راجپوت ونشاولی از لال چند دھنتا صفحہ نمبر 93 پہ درج ہے :
ستوت ایک راجہ ہوئے جن کے ساتھ پتر تھے - ان میں اندھک سے چار پتر ککور (کوکر) ، بھجمان ، شچی اور کمبلوارہی چار پتر ہوئے"
اسی کتاب کے صفحات نمبر 93-94 پہ کھوکھر راجپوتوں کا مفصل ذکر ہے

مندرجہ ذیل انگریزی کُتب میں بھی راجہ ستوتی کا تذکرہ اور تفصیل موجود ہے :
01 : The Body of God (264)
02 : Studies in the religious life of ancient and medieval India (17)
03 : The Bhagavad Gita by George Feuerstein (63)
04 : History of the Ancient India Revisited , A Vedic - Puranic View by Omeah K Chopra (193)
05 : Epic India: Or, India as Described in the Mahabharata and the Ramayana by Chintaman Vinayak Vaidya
06 : Brahmanda Purana Vol 2
07 : The Characters of Epic Mahabharata Volume 3
08 : Yadava Through Ages by J N Singh Yadava

راجہ اندھک یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ اندھک کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ اندھک یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال ، چھوکر اور کھوکھر قابلِ ذکر ہیں

راجہ ستوتی کے بیٹوں میں دو بیٹے اندھک اور ورشنی زیادہ معروف ہوئے - راجہ اندھک یادو ونشی کی اولاد سے بھوج ونشی اور کھوکھر قبائل معروف ہوئے - راجہ آندھک کی اولاد میں راجہ کھوکھر کے نام کی مناسبت سے انکی اولاد کھوکھر راجپوت کہلائی - حاکمانِ متھرا راجہ کنس اور راجہ اگر سین بھی کھوکھر راجپوت خاندان کے وارث تھے
بھوج ونشی خاندان بھی راجہ ستوتی کے بیٹے اندھک کی اولاد سے ہے

راجہ ستوتی کے دوسرے بیٹوں ورشنی اور دیورتھ کی اولاد یادو ونشی ہی کہلاتی ہے - اسی طرح راجہ اندھک کے بیٹوں میں کھوکھر اور بھجمان کے علاؤہ باقیوں کی اولاد بھی کسی اور بزرگ نے نام سے معروف ہونے کے بجائے یادو ونشی ہی کہلاتے رہے

راجہ اندھک کے بیٹے کھوکھر سے کھوکھر قبیلہ منسوب ہوا جبکہ راجہ کھوکھر کے دوسرے بھائی بھجمان (بھجمن) کے بیٹے دورتھ کی اولاد سے شورسینی راجپوت معروف ہوئے

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ اندھک کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

Address

Rawalpindi West Ridge
RAWALPINDI

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Great Rajputs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category