Wazirabad The Historical City

Wazirabad The Historical City information page regarding wazirabad history

شیر شاہ سوری (جن کا اصل نام فرید خان تھا) برصغیر کی تاریخ کے ان چند حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے محض پانچ سال (1540ء سے ...
28/02/2026

شیر شاہ سوری (جن کا اصل نام فرید خان تھا) برصغیر کی تاریخ کے ان چند حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے محض پانچ سال (1540ء سے 1545ء) کی مختصر مدت میں وہ کارنامے انجام دیے جو صدیوں تک یاد رکھے جائیں گے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم فاتح تھے بلکہ ایک بہترین منتظم اور مصلح بھی تھے۔
​ذیل میں شیر شاہ سوری کی زندگی اور ان کے دورِ حکومت کا ایک جامع جائزہ پیش ہے:
​ابتدائی زندگی اور عروج
​شیر شاہ سوری 1486ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ ان کے والد حسن خان سوری، بہار کے علاقے سہسرام کے جاگیردار تھے۔ فرید خان نے اپنی جوانی جلاوطنی اور جدوجہد میں گزاری، جس نے انہیں فولادی عزم اور انتظامی مہارت بخشی۔
​شیر شاہ کا خطاب: روایات کے مطابق، انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک شیر کا شکار کیا تھا، جس پر بہار کے حاکم بہار خان لوہانی نے انہیں "شیر خان" کا خطاب دیا۔
​سلطنت کا قیام: مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر انہوں نے 1540ء میں دہلی کے تخت پر قبضہ کیا اور سوری سلطنت کی بنیاد رکھی۔
​بے مثال انتظامی اصلاحات
​شیر شاہ سوری کی اصل شہرت ان کی انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر نے بھی بعد میں انہی کے نظام کو اپنایا۔
​1۔ شاہراہِ اعظم (Grand Trunk Road)
​شیر شاہ سوری کا سب سے بڑا کارنامہ جرنیلی سڑک کی تعمیر ہے، جو بنگال سے لے کر کابل (افغانستان) تک پھیلی ہوئی تھی۔
​اس سڑک کے دونوں اطراف سایہ دار درخت لگوائے گئے۔
​ہر دو میل کے فاصلے پر سراہیں (مسافر خانے) تعمیر کی گئیں، جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے الگ الگ کھانے اور قیام کا انتظام تھا۔
​ان سراؤں کو ڈاک کے نظام (Postal System) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
​2۔ کرنسی کا نظام (روپیہ)
​آج ہم جو "روپیہ" استعمال کرتے ہیں، اس کی بنیاد شیر شاہ سوری نے رکھی تھی۔ انہوں نے چاندی کا سکہ رائج کیا جس کا وزن 178 گرین تھا، اور یہ اتنا معیاری تھا کہ برطانوی دور تک اس کی جھلک برقرار رہی۔
​3۔ عدل و انصاف اور پولیس کا نظام
​شیر شاہ سوری کا قول تھا کہ "انصاف تمام مذہبی فرائض میں سب سے افضل ہے"۔
​انہوں نے جرم کے علاقے کے چوہدری یا مقدم (گاؤں کے سربراہ) کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ وہ چور کو پکڑے۔ اس سخت قانون کی وجہ سے ان کے دور میں امن و امان کی مثالی صورتحال تھی۔
​ایک مشہور مقولہ ہے کہ ان کے دور میں ایک بوڑھی عورت بھی سر پر سونے کا ٹوکرا رکھ کر سفر کرتی تو اسے کسی چور کا ڈر نہ ہوتا۔
​عسکری طاقت اور قلعہ بندی
​شیر شاہ نے اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انہوں نے گھوڑوں کو داغنے کا نظام (Dagh System) اور فوجیوں کا حلیہ رکھنے کا طریقہ اپنایا تاکہ بدعنوانی ختم ہو۔
​قلعہ روہتاس: جہلم کے قریب واقع یہ عظیم الشان قلعہ شیر شاہ سوری کی عسکری مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو انہوں نے گکھڑ قبائل کو قابو کرنے کے لیے بنوایا تھا۔

وفات اور مقبرہ
​1545ء میں قلعہ کالنجر کے محاصرے کے دوران بارود کے دھماکے میں شیر شاہ سوری زخمی ہوئے اور انتقال کر گئے۔ ان کا مقبرہ بہار (بھارت) کے علاقے سہسرام میں ایک جھیل کے درمیان واقع ہے، جو فنِ تعمیر کا ایک شاہکار مصلّیٰ سمجھا جاتا ہے۔۔ ۔۔ ✍️

07/12/2025
12/04/2024

وزیرآباد ریلوے اسٹیشن

Address

Wazirabad
52000

Telephone

+923038463676

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wazirabad The Historical City posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category